تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 206 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 206

تصدیق براہین احمدیہ خرید کر کے پالیکر اس میں جلا دئیے پھر ۱۵۲۹ء میں یہ نسخہ چھپ سار میں علانیہ جلا دیئے گئے۔جب ۱۵۳۰ء میں ٹنڈیل نے اس پر نظر ثانی کر کے دوبارہ چھپوایا اور جان وغیرہ کی معرفت اس کی اشاعت کی تو لنڈن کے بشپ نے شائع کرنے والوں کی تشہیر کی اور یک لاکھ اٹھاسی ہزار چارسور و پیہ چھ آ نہ آٹھ پائی جرمانہ کیا۔پھر ۱۵۴۶ء میں ہنری ہشتم شاہ انگلستان کا حکم صادر ہوا کہ ٹنڈیل اور کور ڈیل کے ترجمے اور نیز وہ کتا بیں جن کی پارلیمنٹ نے اجازت نہیں دی اور نیز فرت اور دکلف کی کتابیں نہ پڑھی جاویں اور ملکی اور کلیسائی افسروں کو دیجا دیں کہ وہ جلا دی جاویں۔پھر۱۵۵۴ء میں نماز کی کتاب مع انجیل جلائی گئی۔پھر ۱۵۵۵ء میں اشتہار جاری ہوا کہ بدعتی کتا بیں کہیں نہ بھیجی جاویں اور نہ کوئی اپنے پاس رکھے۔یہ پاک عیسائیوں کی کارروائیاں تھیں جو انہوں نے خلاف مذہب تحریرات اور کتب کی اشاعت کے انسداد میں جاری رکھیں۔اب ہم روشن ضمیر آریہ صاحبان کو ستیارتھ پر کاش مطبوعہ بار اول کے صفحہ ۱۹۴ و ۲۱۶ ۳۱۲۹ کے دیکھنے کی تکلیف دیتے ہیں جو ان کے واجب القدر گور و دیانند صاحب کی تصنیف سے ہے وہ تحریر فرماتے ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ بید آدی ست شاستروں کا پرتیت پر چار کرے۔اور جو کوئی جال پستک رچے ، وا پڑھے، پڑھاوے، اس کو راجہ شر چھیدن تک ڈنڈ دیوے۔جسے کہ کوئی منتھیا جال پستک نرچے۔ستھیار تھ پر کاش صفحہ ۱۹۴۔اور صفحہ نمبر ۲۱۵ میں دیا نند جی نے لکھا ہے۔بیاس ارتھا تھ آ کا دشی، بھاگوت آدکون کی کتھا کرنے والے اور مندروں کے پوجاری اور سنپر واء والے، بیراگی سندھ ، بام مارگی اوک پنڈت مہاتما اور سدہ یہ تو اوپر سے بنے رہتے ہیں