تصدیق براھین احمدیہ — Page 205
تصدیق براہین احمدیہ ۲۰۵ اور بہتوں نے جو جادوگر تھے اپنی کتابیں اکٹھی کر کے سب لوگوں کے آگے جلا دیں اور ان کی قیمت کا حساب کیا تو پچاس ہزار روپیہ ثابت ہوئیں۔اسی طرح خداوند کریم کا کلام بڑھ گیا اور غالب ہوا۔اب اس تعلیم پر جو عملی کارروائیاں ہوئیں وہ سنیئے اور یہ بھی یادر ہے کہ اسکندریہ کے کتب خانہ میں مذہبی کتا بیں نہ تھیں جو اصل محل اعتراض ہے کتاب والٹن مطبوعہ ۱۷۸ء جلد سوم میں ہے۔جب ڈ کلف کے ترجمہ جلانے کا حکم ہوا تو ۱۴۰ء میں ایک کتاب ٹیلر نے تصنیف کی اور ۱۴۲۸ء میں کونسل منعقد ہوئی جس کے حکم سے وکلف کی ہڈیاں قبر سے نکال کر جلائی گئیں۔۱۵۲۶ء میں کارڈنل ولی اور بشپ لوگوں نے حکم دیا کہ ٹنڈیل کا ترجمہ نہ پڑھا جاوے۔اور اس مضمون کے اشتہار اپنے علاقوں میں جاری کئے کہ لوتھر کے بعضے پیرؤوں نے ترجمہ غلط کیا ہے۔اور خدا کے کلام کو جھوٹے ترجموں اور الحادی حاشیوں سے خراب کیا ہے اس لئے وہ ترجمے جس جس کے پاس ہوں تمیں دن کے عرصہ میں جنرل واٹیکر کے پاس حاضر کرے ورنہ کلیسیا سے نکالا جاوے گا اور بدعتی کہلا دے گا۔اور اسی سال ٹونسل بشپ لنڈن اور ٹامس مور نے تمام نسخے ی نوٹ۔جادوگری کس کو کہا گیا ہے۔پادری کلارک آیت ۱۹ کے نیچے لکھتے ہیں۔دنیا میں ہزار ہا کتا بیں نفسانی اور شیطانی موجود ہیں جن سے لوگ بگڑتے ہیں عقلاً و نقل وہ بُرے ہیں۔مثلا بُرے شعروں کی کتابیں کوک شاستر کی کتابیں یا جو ٹھے قصے کہانیاں جو شہوت انگیز ہیں اور وہ افسانے اور قصے جولوگوں نے بُرے مطلب پر تیار کئے ہیں۔پھر رابرٹ کلارک تفسیر اعمال ۳ باب ۸ درس کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ہشیار، نجومی ، جادوگر یہ ایک ہی بات ہے۔(متی ۲-۱) میں جو لفظ مجوسی لکھا ہے وہ لفظ اور یہ لفظ ایک ہی ہے پھر کہا ہے تو اریخ میں لکھا ہے کہ یا رسیوس بزرگ ، پم پیوس، کلاس، جو لیں ، طبر یوس شہنشاہ یہ سب کے سب اپنے اپنے ساتھ جادوگروں کو رکھتے تھے۔اور نپولین شہنشاہ فرانس جو ابھی مرا ہے ایسی دانائی کے زمانہ میں بھی اپنے ساتھ جادوگر رکھتا تھا۔اعمال کے۱۳ باب ۶ درس کے تفسیر میں کہا ہے۔رومی لوگ جادوگروں کو بہت چاہتے تھے اور ان سے شگون و فال دریافت کرتے تھے۔جیسے اس وقت ہندؤں میں ہو رہا ہے۔اور بعضے مسلمان بھی تعویذ گنڈے اور رمالی اور فال کشائی اور ٹو ٹکے کرتے ہیں۔رابرٹ کلارک تفسیر اعمال ۱۹ باب ۲۰ درس میں لکھتے ہیں۔پس یہ کتابیں بھی خداوند کے کلام کے غلبہ سے جل گئیں اور جادوگری کا اعتقاد دالوں سے نکل گیا۔بطلان مٹ گیا۔کلام صدق پھیل گیا۔