تصدیق براھین احمدیہ — Page 204
تصدیق براہین احمدیہ ۲۰۴ اسلام کے پہلے مخاطب تھے۔پھر مجوس پر اسلام کا پورا تسلط ہوا مگر کوئی تاریخ نہیں بتاتی کہ اسلام نے ان کی کتابیں جلائیں۔اگر یہ فعل اسلام یا خلفاء اسلام کا داب ہوتا تو اس کے ارتکاب کے اسباب ہمیشہ اسلام میں موجود تھے اور اسلام کا کوئی مانع نہ تھا۔دوم۔اگر مذہبی وغیرہ کتابوں کا جلانا اسلامی بادشاہوں اور عوام اسلام کا کام ہوتا تو یونانی فلسفہ، یونانی طب یونانی، یونانی علوم کے ترجمے عربی زبان میں محال ہوتے۔سیوم۔اگر کتابوں کا جلانا اسلامی لوگ اختیار کرتے تو ضرور تھا کہ مکذب براہین اپنے ملک سے کوئی نظیر دیتے اور انہیں اسکندریہ میں سمندر پار نہ جانا پڑتا۔چہارم۔سات سو برسوں سے زیادہ اسلام نے ہندوستان میں سلطنت کی اور اس عرصہ میں بھاگوت، رامائن، گیتا، مہابھارت اور ان کے مثل، لنگ پران ، مارکنڈی، مشہور کتا ہیں جو آج تک مذہبی کتابیں اور مقدس پستک یقین کی جاتی ہیں کسی کے جلانے کی خبر کان میں نہیں پہنچی بلکہ ان کتابوں میں سے بعض کے ترجمے ہوئے۔پس تعجب آتا ہے کہ ان ہندوؤں نے کیونکر سمجھ لیا کہ مسلمان ان کی پتکوں کو جلاتے ہیں۔انصاف سے سوچو۔پنجم۔یا درکھو ہم ایک الزامی جواب دیتے ہیں۔اگر چہ الزامی جواب بعض لوگ پسند نہیں کرتے۔مگر ہم اس لئے ایسا جواب پسند کرتے ہیں کہ اس قسم کے جواب سے راستی پسند مخاطب کا دل خود بھی اندرونی جواب کا طالب ہوتا ہے اور حقیقی جواب ایسی حالت میں زیادہ تر موثر بنتا ہے۔اس الزامی جواب میں پہلے ہم عیسائیوں کو لیتے ہیں جو اس اعتراض کے پہلے بانی ہیں اور مکذب براہین نے انہیں کے اخبار نور افشاں۔نمبری ۲۱، جلد ۱۲ مطبوعہ ۲۲ مئی ۱۸۸۴ء سے یہ سوال اخذ کیا ہے اور اس وقت الزامی جواب کی خوبی پر ان کو مستی کے باب ۱۔۵۔لوقا باب ۳۷ یاد دلاتے ہیں اور پھر عرض کرتے ہیں کہ وہ اعمال ۱۹ باب ۲۰۱۸ میں ملاحظہ فرمائیں کہ اس میں کیا لکھا ہے۔اور بہتیروں نے ان میں سے جو ایمان لائے تھے آ کے اپنے کاموں کا اقرار کیا۔