تصدیق براھین احمدیہ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 203 of 307

تصدیق براھین احمدیہ — Page 203

تصدیق براہین احمدیہ کرتے تھے۔ایسا نہ ہو کہ ان ست دھرم کی کتابوں کو جلا دیں۔پھر مکذب نے صفحہ نمبر۷۹ میں اسکندریہ کے کتب خانہ کی تباہی کا ذکر کیا ہے۔کہ "فیلونس حکیم اور فاضل اجل کی عرض پر عمر وسپہ سالا را فواج نے امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ ثانی سے اس کتب خانہ کے بارے میں ارشاد پوچھا تو خلیفہ نے لکھا فی الفور جلا دیے جاویں۔چھ مہینہ تک وہ حمام گرم ہوتے رہے۔انتھیٰ مختصرًا یہ اعتراض صرف پادری صاحبان کی کاسہ لیسی کا نتیجہ ہے۔والا ناظرین غور کریں۔اوّل۔اگر اسلام کی عادات میں یہ ہوتا تو اسلام والے پھر خلیفہ عمر ا پنے عہد سعادت مہد میں یہود اور عیسائیوں کی پاک کتابوں کو جلاتے۔کیونکہ وہی دونوں مذہب ہاں پاک کتابوں والے مذہب لے اگر چہ اس وقت تک جبکہ اس واقعہ کی تحقیق نہ کی گئی تھی اور سیح حالات روشنی میں نہ آئے تھے۔یہ الزام مسلمانوں کو دیا جاتا تھا مگر اب منصف مزاج اور حق پسند علماء میں ایسے لوگ بہت کم رہ گئے ہیں جو یہ نا حق الزام مسلمانوں کو دیتے ہوں اس الزام کی وجہ زیادہ تر تعصب یا نا واقفیت پر مبنی تھی اور اس وقت بھی جب یہ الزام لگانے والے کے پاس کوئی صحیح سند موجود نہ تھی۔یعنی اس قصہ کے بیان کرنے والے دو مورخ اس واقعہ سے ۵۸۰ برس بعد پیدا ہوئے تھے۔اور کوئی پہلی سندان کے پاس موجود نہ تھی سینٹ کرائی سے جس نے اسکندریہ کے کتب خانہ کی تحقیق میں بہتسی کتابیں لکھی ہیں۔اس روایت کو بالکل جھوٹا ٹھہرایا ہے۔اور معلوم ہوا ہے کہ یہ کتا بیں جولیس سیزر کی لڑائی میں جل گئی تھیں چنانچہ پلو ٹارک بھی لائف آف سیزر میں لکھتا ہے کہ جولیس سیزر نے دشمنوں کے ہاتھ میں پڑ جانے کے خوف سے اپنے جہازوں کو آگ لگا دی اور وہی آگ بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ گئی کہ اس نے اسکندریہ کے مشہور کتب خانہ عظیم کو بالکل جلا دیا۔ہینڈی صاحب (Haydn) نے اپنی کتاب ”ڈکشنری آف ڈیٹس ریلیٹنگ ٹو آل ایجز میں جہاں اس غلط روایت کو درج کیا ہے وہاں اپنی تحقیقات سے یہ نوٹ لکھا ہے کہ یہ قصہ بالکل مشکوک ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول اگر وہ کتا بیں مخالف اسلام ہیں تو جلا دینا چاہئیں“۔مسلمانوں نے تسلیم نہیں کیا۔اس قول کو بعض نے تھیو فلس اسکندریہ کے بشپ سے منسوب کیا ہے۔جو ۳۹۰ء میں ہوا اور بعض نے اسے کارڈنل زمنیز کے ماتھے لگایا ہے جو ۱۵۰۰ء میں تھا“۔ہمارے مشہور جوان مرد ڈاکٹر لائیٹر نے اپنی کتاب سنین الاسلام میں اس غلط روایت کی پیروی کی ہے اور افسوس سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب موصوف کو اپنی تحقیقات میں دھوکا ہوا ہے۔ڈریپر صاحب نے مشہور کتاب میں پہلے اس قول کو غلط راویوں سے نقل کیا ہے لیکن بعد میں جا کر اس قول کی غلطی کو تسلیم کیا ہے اور لکھا ہے کہ در حقیقت یہ کتابیں جولیس سیزر کی لڑائی میں جل گئی تھیں۔اور اب کامل یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ یہ قول بالکل بے اصل اور محض فسانہ ہے۔اگر رونے کے لائق ہے تو یہ سچا واقعہ ہے کہ متعصب کار ڈانل زمنیز نے اسی ہزار عربی قلمی کتا بیں گرینڈا کے میدانوں میں برباد کرنے والی آگ کے شعلوں کے حوالے کر دی تھیں۔( دیکھو کا نفلکٹ بیٹوین سائنس اینڈ ریلیجن)۔عبدالکریم