تصدیق براھین احمدیہ — Page 16
تصدیق براہین احمد به ۱۶ ج- د۔_ O وَذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ أَرْدُنكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخُسِرِينَ (حم السجدة: ۲۴) وفُوا بِعَهْدِي أُوفِ بِعَهْدِكُمْ (البقرة :(۴) يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبة: ١١٩) وَانْ لَّيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى وَأَنَّ سَعْيَه سَوْفَ يُرى (النجم : ۴۱،۴۰) یہ ایک مختصر تذکرہ ہے جو گزشتہ واقعات پر مبنی ہے جس کی شہادت آثار باقیہ اور تواریخ صحیحہ سے ظاہر ہے۔یہاں انڈیا میں ہمارے مورث آئے ، استقامت، باری تعالیٰ پرحسن ظن، وفاداری، صداقت اور سعی اور سعادت کا مخزن توحید الوہیت اور جزا اور سزا کا مستحکم مسئلہ اور ایمان بالملائکہ اور ایمان بِمَا اَنْزَلَ اللهُ اور إِیمَان بِالْأَنْبِيَاء کا پاک اعتقاد جو تمام نیکیوں کا منشا ہے۔اور تقدیر کا نہایت سچا مسئلہ جو تمام بلند پروازیوں کا سرچشمہ ہے۔اور مروت، شجاعت، ہمت، عدل اور اخلاص۔یہ ساری صفات فاضلہ اپنے ساتھ لائے ان کا ظاہر وباطن ایک تھا جیسا ایمان اور اخلاص رکھتے تھے ویسے ہی کامیاب بھی ہوتے رہے۔مگر ان کی اولاد نے اپنے آباء کی اقتدا میں ستی کی ، بزرگوں کی چال نہ چلے۔بلکہ فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلوةَ وَاتَّبَعُوا الثَّهَوتِ (مريم:۲۰) حرص و ہوا کے پیچھے پڑے تب ان کو حسب الہی وعید لے اور اسی گمان نے جو تم نے اپنے رب سے کیا تمہیں ہلاک کیا پھر تم زیاں کا رہو گئے۔میرے عہد کو پورا کرو میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا۔سے اے مومنو اللہ سے ڈرواور صادقوں کا ساتھ اختیار کرو۔ہے انسان کا بہرہ وہی ہے جو اس نے کمایا اور اس کی کمائی دیکھی جاوے گی۔پھر ان کے بعد ایسے جانشین پیدا ہوئے جنہوں نے عبادت الہی کو ترک کیا اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے۔