ترجمہ تفسیر صغیر کے بےمثال معنوی، لغوی اور ادبی کمالات — Page 15
10 کے شرف اور مرتبہ کے اظہار کے لیے حضرت مصلح موعود سید نا محمود رضی اللہ عنہ کو عطا کی گئی۔اس شہرۂ آفاق ترجمہ کے محاسن و کمالات کو احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں تاہم اصولی طور پر اس کے حسب ذیل تین کمالات بالکل نمایاں ہیں۔اور سرسری مطالعہ سے ہی معلوم ہو سکتے ہیں :- ای معنوی کمالات :۔دینی قرآن مجید کی روح اور اس کے مفہوم کو اردو میں منتقل کرنیکے کمالات )۔لغوی کمالات :۔یعنی وہ کمالات جو عربی لغت کی روشنی میں ہمارے سامنے آتے ہیں )۔۳۔ادبی کمالات :- ریعنی ترجمہ کے لیے اردو زبان کے موزوں، شستہ اور فصیح الفاظ کے انتخاب سے متعلق کمالات جن سے اس کے بلند پایہ اور با محاورہ ترجمہ کی عظمت کا پتہ چلتا ہے)۔فصل اوّل معنوی کمالات کے بیان میں حضرت مهدی معهود و مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔سب سے اول معیار تفسیر صحیح کا شواہد قرآنی ہیں۔یہ بات نہایت تو جہ سے یا د رکھنی چاہیئے کہ قرآن کریم اور معمولی کتابوں کی طرح نہیں