ترجمہ تفسیر صغیر کے بےمثال معنوی، لغوی اور ادبی کمالات — Page 14
سمجھی جاتی ہے۔علاوہ ازیں دو سال پہلے حضور پر ایک قاتلانہ حملہ ہو چکا تھا جس کے اثرات ابھی باقی تھے کہ 1900ء میں آپ کی علامت انتہائی تشویشناک صورت اختیار کر گئی اور حضور کو بغرض علاج یورپ تشریف لے جانا پڑا۔سفر یورپ پر روانگی سے قبل حضور نے احباب جماعت کے نام ایک خصوصی پیغام میں تحریر فرمایا کہ: میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اے خدا! ابھی دنیا تک تیرا قرآن صحیح طور پر نہیں پہنچا اور قرآن کے بغیر نہ اسلام ہے نہ مسلمانوں کی زندگی۔تو مجھے پھر سے توفیق بخش کہ میں قرآن کے بقیہ حصہ کی تفسیر کہ جاؤں اور دنیا پھر ایک لیے عرصے کے لیے قرآن شریف سے واقف ہو جائے اور اس پر عامل ہو جائے اور اس کی عاشق ہو جائے الفضل ۱۰ را پریل شاء مقت) له خدا تعالیٰ کے اس محبوب بندہ کی اس پر سوز دعائے عرش الہی ہلا دیا۔خدا کی رحمت یکایک ہوش میں آگئی اور بڑھاپے کے مستقل عوارض اور دوسری بیماریوں نیز انتہائی جماعتی مصروفیتوں اور رکاوٹوں کے باوجود چند ماہ کے اندر اندر پورے قرآن کے مطالب پرمشتمل نہایت مختصر مگر جامع و مانع تفسیر نه صرف مرتب ہوئی بلکہ چھپ کر شائع بھی ہو گئی۔یہ گویا ایک الہی تمغہ ، ایک روحانی تاج اور ایک آسمانی خلعت تھی جو اللہ جلشانہ کی طرف سے کلام اللہ ے مطابق ۱۰ شهادت ۱۳۳۲ هش