ترجمہ تفسیر صغیر کے بےمثال معنوی، لغوی اور ادبی کمالات — Page 16
14 جو اپنی صداقتوں کے ثبوت یا انکشاف کے لیے دوسرے کا محتاج ہو وہ ایک ایسی متنا سب عمارت کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ ہلانے سے تمام عمارت کی شکل بگڑ جاتی ہے اس کی کوئی صداقت ایسی نہیں ہے جو کم سے کم دس یا ہیں شاہد خود اسی میں موجود نہ ہوں۔سو اگر ہم قرآن کریم کی ایک آیت کے معنے کریں تو ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ان معنوں کی تصدیق کے لیے دوسرے شواہد قرآن کریم سے ملتے ہیں یا نہیں۔اگر دوسرے شواہد دستیاب نہ ہوں بلکہ ان معنی کی دوسری آیتوں سے صریح معارض پائے جاویں تو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ وہ معنے بالکل باطل ہیں کیونکہ ممکن نہیں کہ قرآن کریم میں اختلاف ہو اور نیچے معنوں کی یہی نشانی ہے کہ قرآن کریم میں سے ایک لشکر شواہد مبینہ کا اس کا مصدق ) بركات الدعا طبع اول صلات ۱۵ l سید نا منضرت امام مہدی معہود علیہ السلام کے مندرجہ بالا ارشاد مبارک کی روشنی میں ترجمہ تفسیر صغیر کا بنیادی اصول یہی ہے کہ قرآن مجید کوسب سے اول قرآن مجید ہی سے حل کیا جائے اور متشابہات کے معنے محکم آیات کے ماتحت لا کر کئے جائیں۔اس حقیقت کی وضاحت کے لیے بطور نمونہ چند مثالیں بیان کی جاتی ہیں ہے پہلی مثال | آیت الله الذِينَ كَفَرُ وا سوا لا عَلَيْهِمْ وَأَصْنَ رَم اس مقالہ میں آیات قرآنی کے نمبر تفسیر صغیر کے مطابق دیئے گئے ہیں۔