تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 82 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 82

تاریخ احمدیت۔جلد 28 82 سال 1972ء چاہیے۔مثلاً ایک شخص کو انگلستان میں آٹھ پاؤنڈ ہفتہ وار ملتے ہیں اگر آپ اس سے ہفتہ وار سولہواں حصہ یعنی دس شلنگ نہیں لیتے (سال کے حساب سے سولہواں حصہ کچھ کم بنے گا) دوسرے ہفتے بھی نہیں لیتے ، پھر تیسرے ہفتے بھی نہیں لیتے اور چوتھے ہفتے چار ہفتوں کا اکٹھا لینا چاہتے ہیں تو اس صورت میں اس پر بڑا بوجھ ہوگا۔مزدور ہیں جو روزانہ کمانے والے ہیں اگر چہ اس معاملہ میں زیادہ سوچنے ،فکر و تدبر کرنے اور زیادہ مشورے کرنے کی ضرورت ہے لیکن کسی وقت ہمیں اس طرف آنا پڑے گا اور اس کے بارہ میں کوئی پروگرام بنانا ہو گا۔ایک مزدور جو صبح سے شام تک محنت کر کے کما رہا ہے اگر اس کی کمائی پانچ روپے روزانہ ہے تو پانچ آنے اس کو چندہ عام دے دینا چاہیے۔( آنے اگر چہ مروجہ سکوں میں ختم ہو چکے ہیں لیکن میں اس مثال میں ” آنے ہی لوں گا تا کہ آسانی سے سمجھ آ جائے ) پانچ روپے میں سے پانچ آنے دینا اس کے لئے کوئی مشکل نہیں لیکن مہینے کے آخر میں روزانہ کمانے والے کے لئے ڈیڑھ سو آنے دینا عملاً ناممکن ہے سوائے اس کے کہ وہ بہت قربانی کرنے والا ہو اور اپنے بچوں کو بھوکا رکھ کر یہ رقم ادا کرے اور اس صورت میں آپ اور آپ سے میری مراد اس تسلسل میں نظام جماعت ہے ) اُس تکلیف کے ذمہ وار ہوں گے۔روزانہ ادائیگی اس کے لئے کوئی بوجھ نہیں ہے کیونکہ پانچ روپے وہ کماتا ہے اور پانچ آنے اس نے چندہ دینا ہے۔اگر چہ جماعت میں اس وقت روزانہ وصولی کا یہ نظام نہیں ہے لیکن اب ہمیں اس طرف توجہ دینی چاہیے۔اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت جماعت میں وسعت پیدا کر رہی ہے اور الہی سلسلوں میں ابتداء میں غرباء ہی شامل ہوتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری اکثریت مزدوروں اور کسانوں پر مشتمل ہے جن کو روزانہ یا دو دن بعد اجرت ملتی ہے یا بعض دفعہ مزدور کو جب سہولت ہو تو خود ہی کہتا ہے کہ میں نے تین دن تمہارا کام کرنا ہے تین دن کے بعد مجھے اکٹھی مزدوری دے دینا لیکن بہت سارے مزدور ایسے ہیں جو روزانہ کماتے ہیں اور روزانہ ہی ان کا خرچ ہوتا ہے۔بہر حال اس کا تفصیلی جائزہ لینا چاہیے اور اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔65 66