تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 83
تاریخ احمدیت۔جلد 28 83 سال 1972ء مجلس ارشاد مرکزیہ کے اجلاسات پہلا اجلاس ۲۹ اپریل ۱۹۷۲ء کو بعد نماز مغرب مسجد مبارک میں مجلس ارشاد مرکز یہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مقامی احباب کے علاوہ بیرونجات سے بھی احباب نے شرکت فرمائی۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے کرسی صدارت کو رونق بخشی۔اس اجلاس میں تلاوت اور نظم کے بعد پروفیسر ڈاکٹر نصیر احمد خان صاحب پی ایچ ڈی صدر شعبہ فر کس تعلیم الاسلام کا لج ربوہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فارسی الاصل ہیں“ کے موضوع پر اپنا دلچسپ اور فکر انگیز مقالہ پڑھا۔پھر (حضرت) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام خذوا التوحید التوحید یا ابناء الفارس‘ کی تشریح پر مشتمل اچھوتے رنگ میں ایک اہم اور لطیف تقریر فرمائی۔آخر میں حضور انور نے مختصر مگر بصیرت افروز خطاب فرمایا جس میں حضور نے بعض دیگر امور کے علاوہ ان ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلائی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعلق رکھنے والے جسمانی اور روحانی ابناء پر قیام توحید کے سلسلے میں عائد ہوتی ہیں۔حضور نے فرما یا ہر احمدی کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ ہمارا سب سے قیمتی لعل ہمارا خدا ہے باقی ہر چیز فانی ہے۔وہی ہمارا محافظ ہے اور ہر طاقت کا سرچشمہ ہے۔اس لئے اس سے تعلق پیدا کرنا اور باقی سب چیزوں پر اسے مقدم رکھنا ہم میں سے ہر ایک کے لئے ضروری ہے۔اجلاس کے اختتام پر حضور انور نے اجتماعی دعا کرائی اور اس طرح یہ با برکت اجلاس اختتام پذیر ہوا۔66 دوسرا اجلاس مورخہ ۱۷ جون ۱۹۷۲ء کو بعد نماز مغرب مسجد مبارک ربوہ میں مجلس ارشا د مرکز یہ کا اجلاس منعقد ہوا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث ناسازی طبع کے باعث تشریف نہ لا سکے اس لئے اجلاس کی صدارت کے فرائض محترم مولانا ابوالعطاء صاحب کی درخواست پر محترم مولانا قاضی محمد نذیر صاحب لائلپوری نے سرانجام دیئے۔اجلاس میں تین تحقیقی اور ٹھوس علمی مقالے پڑھے گئے۔تلاوت قرآن کریم سے کارروائی کا آغاز کیا گیا جو کہ مکرم نسیم احمد صاحب باجوہ نے کی۔بعد ازاں محترم سید محمود احمد صاحب