تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 81 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 81

تاریخ احمدیت۔جلد 28 81 سال 1972ء مالی قربانیوں کے لئے بہتر نظام قائم کرنے کی اہم تحریک سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے ۱/۲۸ پریل کو جماعت احمدیہ کی مالی قربانیوں میں وصولی۔کے نظام کو بہتر کرنے کی اہم تحریک فرمائی چنانچہ اس روز خطبہ جمعہ کے دوران ارشاد فرمایا:۔” جب مالی قربانیاں ایک نظام کے ماتحت دی جائیں تو احباب جماعت یہ توقع رکھتے ہیں کہ انتظام چُست ہوگا اور سارا سال باہمی مشوروں، یاددہانیوں اور نصیحت کے ذریعے ذمہ داریاں ادا کروائی جائیں گی۔ایک نقطہ نگاہ سے نظام ذمہ داری ادا کرتا ہے اور ایک دوسرے نقطۂ نگاہ سے ذمہ داری ادا کرواتا ہے پس احباب جماعت یہ سمجھتے ہیں کہ ذمہ داریاں ادا کرائی جائیں گی اور کسی ایک کو بھی سست ہونے دیا جائے گا نہ غافل۔اس طرح سارے مل کر اس انتظام میں آگے سے آگے اور تیز سے تیز تر ہوتے ہوئے بڑھتے چلے جائیں گے۔لیکن اس کے برعکس بعض جگہ تو بہت بھیانک حد تک اور بعض جگہ ایک حد تک سستی یہ ہوتی ہے کہ وہ مالی بوجھ جو احباب جماعت پر سارے سال میں پھیل کر پڑنا چاہیے، وہ پھیلاؤ کی بجائے بعض دفعہ آخری چھ ماہ یا آخری دو ماہ پر پڑتا ہے۔پس احباب جماعت کے لئے حالات کے لحاظ سے پروگرام بننا چاہیے۔مثلاً زمیندار ہیں ان کے لئے چھ ماہ کا پروگرام ہو کیونکہ انہوں نے فصلوں کے موقع پر اپنی مالی قربانیاں پیش کرنی ہیں۔جب ان کی فصلیں تیار ہوں اور مالی قربانی کے قابل ہوں تو اس وقت ان کو یاد دہانی کرائی جانی چاہیے تا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں وقت پر ادا کریں اور بعد میں ان کو بوجھ برداشت نہ کرنا پڑے۔جماعت کے بعض دوست ایسے ہیں کہ جنہیں ماہانہ تنخواہ ملتی ہے ان کی ماہانہ مالی ذمہ داری ادا ہونی چاہیے، اگر وہ کسی ایک مہینہ میں سستی دکھا ئیں گے تو دوسرے مہینے ان پر بڑا بوجھ پڑ جائے گا۔اگر آپ نے ان کو آٹھ نو مہینے ست رہنے دیا تو گویا دسویں، گیارہویں اور بارہویں ماہ میں سارے سال کے چندے ادا کرنے اور مالی قربانیاں پیش کرنے کا ان پر بڑا بوجھ پڑ گیا۔یورپ وغیرہ میں اکثر جگہ ہفتہ وار تنخواہ ملتی ہے لہذا وہاں ہفتہ وار وصولی ہونی