تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 75
تاریخ احمدیت۔جلد 28 75 سال 1972ء سے لے کر تحریک جدید کے گیسٹ ہاؤس تک جہاں آپ نے قیام کرنا تھا شارع مبارک (وہ سڑک جس پر مسجد مبارک واقع ہے ) کو پاکستان اور چین کے لا تعداد چھوٹے چھوٹے جھنڈوں سے آراستہ کیا گیا تھا۔اہل ربوہ مقررہ وقت سے قبل ہی شارع مبارک کے دونوں طرف اور اس کے ساتھ ساتھ پھیلے ہوئے گھاس کے قطعات میں جمع ہونے شروع ہو گئے تھے۔تین بجے سہ پہر تک احباب ایک بہت ہی کثیر تعداد میں آجمع ہوئے۔بچے، بوڑھے اور جوان سب صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس راستہ کے دونوں طرف قطار در قطار بہت نظم و ضبط کے ساتھ کھڑے تھے۔سکولوں کے بچوں نے ہاتھوں میں پاکستان اور چین کے چھوٹے چھوٹے خوشنما جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔گیسٹ ہاؤس کے باہر سڑک پر ایک بہت خوبصورت اور وسیع و عریض شامیانہ میں صدر انجمن احمد یہ تحریک جدید اور وقف جدید کے صدران کرام نیز ناظر ، وکلاء اور ناظم صاحبان، فضل عمر فاؤنڈیشن ، حديقتة المبشرین اور مجلس نصرت جہاں کے عہد یداران تعلیمی اداروں کے سربراہان اور بعض امراء اضلاع ایک نظام کے ماتحت صف بستہ ایستادہ تھے۔اکرام ضیف کے پیش نظر سوا تین بجے خود سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث بھی استقبال کیلئے تشریف لے آئے۔ساڑھے تین بجے سہ پہر جو نہی سفیر موصوف کی کارسرگودہا جانے والی پختہ سڑک سے شارع مبارک کی طرف مڑی اور ربوہ کی بستی کے اندر داخل ہوئی تو سرا پا شوق اہل ربوہ نے ایک نظام کے ما تحت أَهْلًا وَ سَهْلًا وَ مَرْحَبًا اور چینی زبان میں ”خوش آمدید کے پرجوش نعرے بلند کر کے اور ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے پاکستان اور چین کے چھوٹے چھوٹے جھنڈے ہلا ہلا کر اپنے معزز مہمان کا نہایت پر تپاک خیر مقدم کیا۔جب تک موٹر کار اس راستہ پر سے گزرتی رہی اہل ربوہ جماعت احمدیہ کے چینی نژاد مبلغ اسلام مکرم محمد عثمان صاحب چینی کی اقتداء میں خیر مقدمی نعرے لگاتے رہے اور سفیر موصوف ہاتھ ہلا ہلا کر اور اردو میں شکریہ شکریہ کہ کہ کر بڑے ہی تقسم ریز چہرے کے ساتھ ان نعروں کا جواب دیتے رہے۔جب موٹر کار گیسٹ ہاؤس کے باہر شامیانہ کے قریب آ کر رکی تو حضور انور نے موٹر کار کے قریب تشریف لے جا کر سفیر موصوف کا استقبال کیا اور خوش آمدید کہا۔بعد ازاں آپ حضور انور کی معیت میں شامیانہ میں تشریف لائے جہاں محترم باجوہ صاحب نے آپ سے مرکزی انجمنوں کے صدران کرام، ناظر و وکلاء صاحبان تعلیمی اداروں کے سربراہان اور دیگر احباب کا تعارف کرایا۔تعارف سے فارغ ہونے کے بعد سفیر موصوف حضور انور، محترم صاحبزادہ مرزا