تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 40
تاریخ احمدیت۔جلد 28 40 سال 1972ء تاریخ احمدیت ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ اللہ تعالیٰ خلفاء وقت کی دعاؤں کے طفیل قبولیت دعا کے ہمیشہ نشانات دکھاتا رہا ہے۔قبولیت دعا کا یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور خلافت احمدیہ کی حقانیت اور دائمی برکات کی ایک زندہ مثال ہے۔29 دوسرا آل ربوہ ٹیبل ٹینس ٹورنا منٹ مورخه ۲۳ مارچ ۱۹۷۲ء کو بعد از دو پہر دوسرے آل ربوہ ٹیبل ٹینس ٹورنامنٹ کا آغاز بمقام ایوان محمود ربوہ ہوا۔ابتدائی اور سیمی فائنل مقابلے ۲۴ مارچ کی دو پہر تک کھیلے گئے تقسیم انعامات کے لئے سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی خدمت میں درخواست کی گئی جسے حضور نے از راہ شفقت قبول فرمایا۔چنانچہ حضور انور ساڑھے پانچ بجے شام تشریف لائے۔صدر صاحب مجلس اور ممبران عاملہ مرکزیہ نے حضور کا استقبال کیا۔ہال میں تشریف لانے کے بعد حضور نے از راہ شفقت ایک خوش قسمت خادم کو اپنے ساتھ ٹیبل ٹینس کھیلنے کا موقعہ دیا۔اس کے بعد حضور کی موجودگی میں سنگل اور ڈبل کے فائنل مقابلے ہوئے۔مقابلوں کے اختتام پر حضور انور نے انعامات تقسیم فرمائے نیز اپنی طرف سے بھی ہر جیتنے والے کو قرآن مجید (مع ترجمہ انگریزی) کا ایک ایک نسخہ اپنے دستخطوں سے مرحمت فرمایا۔اس کے بعد حضور نے حاضرین سے مختصر خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔کام کا آغاز خدا تعالیٰ کے فضل سے ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی کوئی انتہا نہیں اس لئے کوشش کرو کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے رہو۔“ اس کے بعد حضور نے دعا کروائی اور یہ ٹورنامنٹ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اختتام پذیر ہوا۔30 یوم مسیح موعود علیہ السلام پر ربوہ میں جلسہ عام مورخه ۲۳ مارچ ۱۹۷۲ء کو صبح 9 بجے مسجد مبارک ربوہ میں یوم مسیح موعود علیہ السلام کے سلسلہ میں لوکل انجمن احمدیہ کے زیر اہتمام ایک خاص جلسہ منعقد ہوا جس میں علماء سلسلہ مولانا ابوالعطاء صاحب ، مولوی بشارت احمد صاحب بشیر سابق مبلغ مغربی افریقہ، مولانا شیخ مبارک احمد صاحب سابق رئيس التبليغ مشرقی افریقہ اور مولانا دوست محمد شاہد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض، آپ کے دعاوی اور ان کے دلائل ، آپ کا عشق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ کے کارناموں پر نہایت مؤثر انداز میں روشنی ڈالی اور بتایا کہ ۲۳ مارچ کو تاریخ احمدیت میں کیا