تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 411 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 411

تاریخ احمدیت۔جلد 28 411 سال 1972ء احمدیہ کے امام حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب نے ان ملکوں کا طوفانی دورہ فرمایا تھا۔اس دورہ میں مسلمانوں کے علاوہ دوسرے افریقی عوام نے جس والہیت سے ہر جگہ آپ کا خیر مقدم کیا اور جس طور حکومتوں کی طرف سے آپ کی پذیرائی ہوئی۔پریس اور ریڈیو نے جس اہتمام سے لحظہ بہ لحظہ اس دورہ کی تفاصیل نشر کیں۔اس سے عوام کے آئندہ ذہنی رجحان کا اندازہ بخوبی لگ سکتا ہے۔آپ کی تشریف آوری کے بعد سے اب تک ایک درجن نئے شفا خانے اور آٹھ سیکنڈری سکول کھل چکے ہیں۔قرآن کریم کی اشاعت میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔اب وہاں ایک طاقتور براڈ کاسٹنگ سٹیشن“ قائم کرنے کی جدو جہد بھی کی جارہی ہے تاکہ کم از کم وقت میں خدائے واحد کے پاکیزہ دین اسلام کی آواز ہر متنفس کے کانوں تک پہنچائی جا سکے۔دین مبین کی روز افزوں مقبولیت کی رفتار ( کا اندازہ ) اس ایک امر ہی سے لگا لیجئے کہ ۷۲-۱۹۷۱ء میں صرف غانا ہی میں پانچ ہزار مشرکوں اور عیسائیوں نے اپنے بتوں پر تین حرف بھیج کر اور یسوع مسیح علیہ السلام کی خدائی سے دستبرداری کا اعلان کر کے کلمہ طیبہ پڑھا“۔۳۔سیدنا بلال حبشی کے یہ روحانی فرزند غیرت ایمانی کے نشہ میں سرشار ہیں۔اس کا اندازہ اس ایک واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ میرے وہاں قیام کے دوران امتحان میں باعزاز کامیابی پر انعام کے طور پر ایک احمدی مسلم طالب علم کو ایک خوبصورت ڈبیہ دی گئی۔اس ڈبیہ میں صلیب تھی۔جب اس طالب علم نے ڈبہ کھولی اور اس میں صلیب دیکھی تو اس نے بلند آواز سے یہ کہہ کر تمام عیسائی منتظمین کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا کہ میں مسلمان ہوں اور مجھے اس صلیب کی کوئی ضرورت نہیں“۔یہ سن کر سارے مجمع پر سناٹا چھا گیا۔اس واقعہ سے آپ کو یہ بھی اندازہ ہو گیا ہو گا کہ عیسائی پادری اپنے دین کے فروغ کے لئے وہاں کیسے کیسے عیارانہ ہتھکنڈے اور حربے استعمال کرتے ہیں۔اپنے اس بابرکت دورہ میں جماعت احمدیہ کے امام نے جس طرح حبشی بچوں سے پیار کیا۔کالے اور گورے کی تمیز سے نفرت کا عملی مظاہرہ فرمایا۔عوام و خواص سے اپنے فراخ سینے سے معانقے کئے۔اس سے تو سارے افریقہ میں اہل پاکستان کی انسانیت دوستی کے بارے میں ایک نہایت خوشگوار رائے قائم ہوئی ہے اور جو ابھی تک حلقہ بگوش اسلام نہیں ہوئے وہ بھی اس حقیقت کو ضرور تسلیم کرنے لگے ہیں کہ شرف انسانیت کا حقیقی نقیب و داعی صرف اور صرف اسلام ہے نہ کہ عیسائیت !۔“۔اسلام کی اشاعت اور فروغ میں وہاں ایک بڑی رکاوٹ مسلمانوں کا ذاتی کردار نمونہ