تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 410
تاریخ احمدیت۔جلد 28 410 سال 1972ء عبادت گذار مسلمان کی تجہیز وتکفین کے وقت اس کی جیب سے ایک صلیب برآمد ہوئی تھی۔بادی دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد كَادَ الْفَقرُ اَنْ يَكُونَ كَفْراً کہ افلاس کفر وارتداد کا باعث بن جاتا ہے کس قدر برحق ہے۔اب تو چند سالوں سے ان عیسائی مشنوں نے اپنے انتظامات میں اور بھی وسعت پیدا کر لی ہے۔ان کا عملہ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔رومن کیتھولک کی تنظیم نے اپنا نصف عملہ اور پروٹسٹنٹ نے ۳۵ فیصد عملہ افریقہ میں متعین کر دیا ہے۔حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم کی خاک پا اس غلام کو وہاں ۱۵ سال خدمت اسلام کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔میرے آنے تک ان کے پھیلاؤ کی صورت حال یہ تھی۔ملک غانا نائیجیریا سیرالیون آبادی کیتھولک کی تعداد کیتھولک پادریوں کی تعداد ۱۱۰۰۷۸۴۰ ۱۱۳۹ ۲۶,۵۰,۰۰۰ ۶,۳۸,۷۰,۰۰۰ ۸۲ ۴۲۵۵ ۲۵,۱۲,۰۰۰ اسے یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ اس وقت بیرون پاکستان مسلم احمدی جماعتیں سب سے زیادہ انڈونیشیا اور غانا میں ہیں۔غانا میں احمدی مسلمانوں کی تعداد دو سے اڑھائی لاکھ تک ہے لیکن اگر غا نا کا مقامی اور پاکستانی تبلیغی عملہ، سیرالیون اور نائیجیریا کا عملہ ملادیا جائے جب بھی وہ سیرالیون میں عیسائیوں کے کیتھولک پادری فرقے کے عملہ کے برابر نہیں بنتا۔۲۔عیسائی مشنری در اصل وہاں تبلیغ مذہب سے زیادہ دوسرے سیاسی اور اقتصادی مقاصد کے لئے آتے ہیں جبکہ احمدی مبشرین اسلام صرف انہیں خدائے قادر و توانا کی توحید اور اس کے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا دین سکھاتے ہیں۔ان ملکوں کے عوام کی فلاح و بہبود پر صرف کرتے ہیں۔وہاں سے ایک پائی بھی لے جانے کے روادار نہیں۔ان کے سکولوں میں دوسرے مضامین کے علاوہ مکمل دینی تعلیم دی جاتی ہے۔ہسپتالوں میں نشتر سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری کے تیروں سے کام لیا جاتا ہے۔مبشرین اسلام کے ٹھوس دلائل نے عیسائیت کے مشرکانہ دلائل کی کلائی مروڑ کر رکھ دی ہے۔بیا فرا کی بغاوت کے بعد تو خود وہاں کے عیسائی حکمرانوں میں بھی عیسائی مشنریوں کے خلاف بیزاری پھیل گئی ہے۔ان کے سیاسی عزائم بے نقاب ہو گئے ہیں۔ہمارے سکولوں اور طبی اداروں کی شہرت و عزت خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے روز بروز بڑھ رہی ہے۔پچھلے دنوں جماعت