تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 412 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 412

تاریخ احمدیت۔جلد 28 412 سال 1972ء اور نومسلموں کے ساتھ سلوک ہے۔مثلاً اگر کوئی غیر مسلم (اس پر حق کھل جانے کے بعد ) اسلام قبول کرنا چاہے تو اسے سب سے پہلے معلم صاحب کے لئے ایک سفید عمامہ، ایک سفید چونہ اور ایک سفید مینڈھا بطور نذرانہ پیش کرنا پڑتا ہے۔ورنہ وہ اخوت اسلامی کے انعام سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو جاتا ہے۔پھر ان نام نہاد مسلمین کے نومسلموں سے سلوک کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ ایک شخص نے اسلام قبول کیا۔قرآن مجید پڑھنا سیکھا۔نمازوں کی پابندی اختیار کی۔اتفاقاً ایک دن مجلس میں کسی مذہبی مسئلہ پر گفتگو شروع تھی۔بدوران گفتگو اس نومسلم نے بھی اپنے خیالات کے اظہار کی اجازت چاہی اس پر معلم صاحب کا پارہ چڑھ گیا اور فوراً تحقیر سے بولے ”چپ رہ تو تو خود کافر ہے۔یہ فقرہ ایک خنجر تھا جو سیدھا اس کے سینہ میں لگا اور وہ اسی وقت اسلام کو خیر باد کہ کر ارتداد کے گھاٹ اتر گیا۔“ ان سے سوال کیا گیا کہ بعض مسلم ممالک ( مثلاً مصر نے ) بھی تو تبلیغ کا ایک پروگرام بنایا تھا۔اس کے جواب میں فرمایا ”سنا ہے کہ بنایا تھا "صوت القاہرہ سے یہ خبر بھی میں نے سنی تھی لیکن ان کئی ہزارمبلغوں میں سے وہاں تو صرف چند ہی پہنچے جن کا کام امامت کرانا تھا یا رمضان میں خوش الحانی سے قرآن کریم سنانا اور بس۔جس کا مشاہرہ انہیں اپنے سفارتخانوں سے ملتا تھا۔100 ماریشس ملکہ برطانیہ الزبتھ ثانی کو کتب کا تحفہ ملکہ برطانیہ الزبتھ ثانی اپنے خاوند شہزادہ فلپ ڈیوک آف ایڈنبرا کے ہمراہ فروری ۱۹۷۲ء سے جنوب مشرقی ایشیاء اور بحر ہند کے ممالک کے سرکاری دورے پر تھیں۔ملکہ کے اس تاریخی دورہ میں جزیرہ ماریشس بھی شامل تھا۔ماریشس کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی برطانوی حکمران اس کا سرکاری دورہ کر رہا تھا۔چنانچہ اس موقع کے لئے حسب معمول شاہی مہمان کے لئے قرآن کریم اسلامی کتب اور خوش آمدید کا ایڈریس پیش کرنے کا پروگرام بنایا گیا۔لہذا ملکہ برطانیہ کے استقبال کے موقع پر مکرم محمد سلیم صاحب قریشی شاہد انچارج احمد یہ مشن ماریشس نے ملکہ معظمہ کو اپنا اور جماعت کا تعارف کروایا۔نیز جماعت احمد یہ ماریشس کی طرف سے موصوفہ کو پر خلوص خوش آمدید کہا۔اسی طرح جب ۲۴ مئی ۱۹۷۲ء کو ملکہ نے اپنے دورہ کے دوران