تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 396
تاریخ احمدیت۔جلد 28 396 سال 1972ء میں مکرم مولوی محمد صدیق صاحب اور خاکسارا کٹھے تھے۔۲۔اس دوران مختلف اجتماعات اور مواقع پر ۹ تقاریر کیں۔صووا میں دو جلسے کئے گئے جن میں خاکسار نے خطاب کیا اور تبلیغی و تربیتی امور کی اہمیت اور ضرورت پر روشنی ڈالی۔لٹوکا میں جماعتی اجتماع کیا جس میں خاکسار نے ختم نبوت کی حقیقت بیان کی اور ایک دوست کے سوالات کے جوابات دیئے۔احمد یہ سکول لٹو کا کی اسمبلی میں طلباء کو خطاب کیا اور اسلام کے اخلاق کے بارے میں تعلیم پر روشنی ڈالی۔مارو میں دو اجتماع کئے گئے۔ایک جلسہ خاص اہتمام سے کیا گیا جس میں احمدی مرد وزن دو کے علاوہ ہندو اور عیسائی اور نجسین یعنی اصلی ملکی باشندے بھی موجود تھے۔خاکسار نے جملہ مذاہب کے مقابلہ میں اسلام کی امتیازی شان کو بیان کیا اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے موعود اقوام عالم ہونے پر خاص طور پر روشنی ڈالی۔اس موقعہ پر ۸۰ کے قریب معززین شامل ہوئے۔جلسہ کے بعد بعض نے بہت اچھے تاثرات کا اظہار کیا۔غرض مختلف جلسوں اور اجتماعات کی صورت میں خطاب کر کے تین صد سے زائد افراد کو پیغام حق پہنچایا۔_Travelodge Hotel صودا میں رومانیہ سے ایک پادری آیا۔اس نے ہوٹل سے فون کیا کہ وہ احمدی مبلغین سے ملنا چاہتا ہے چنانچہ مکرم مولوی محمد صدیق صاحب اور خاکسار رات کو ۹ بجے اس کو ملنے کے لئے ہوٹل پہنچے۔اس نے بتایا کہ وہ ۱۴ سال رومانیہ کی کمیونسٹ حکومت میں قید میں رہا ہے اس نے بتایا کہ میں نے احمدیت کا ذکر سنا ہے۔اس سے دو گھنٹے گفتگو ہوئی۔اس کو بتایا کہ مسیح کی اہنیت ، صلیب پر مرکز کفارہ ہونا، مسیح کا عالمگیر مشن سب باطل ہے اور مسیح صلیب پر فوت نہیں ہوا بلکہ خدا نے اسے سچے نبیوں کی طرح بچایا اور وہ ہجرت کر کے کشمیر پہنچا جہاں اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑیں تھیں اور کشمیر میں فوت ہوا۔پادری صاحب کو سلسلہ کا لٹریچر دیا گیا۔مارو میں گورنمنٹ ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر مسٹر رفاعی سے ملا۔یہ عیسائی ہیں اور نجی کے قریب کے دوسرے جزیرہ کے رہنے والے ہیں۔مسٹر شمشیر خاں صورا انسائیکلو پیڈیا برٹین کا کے سیل ایجنٹ ہیں ان کو لٹریچر دیا گیا اور سلسلہ کا تعارف کرایا گیا اور تبلیغی مساعی ان کو بتائی گئیں۔94 ۲۰ اکتوبر ۱۹۷۲ء کو جزائر نجی کے اصلی باشندوں ( یہ لوگ کا ویتی کہلاتے ہیں عام روایت کے مطابق مشرقی افریقہ سے نجی میں آباد ہوئے جہاں انگریزوں کے آنے کے ساتھ ہی عیسائیت کی آغوش میں چلے گئے ) کو دعوت حق دینے کے لئے ایک خاص تقریب منعقد ہوئی جس میں مولوی غلام