تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 397 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 397

تاریخ احمدیت۔جلد 28 397 سال 1972ء احمد صاحب فرخ نے اپنی تقریر میں حضرت مسیح علیہ السلام کی ہجرت کشمیر اور بائبل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور پیشگوئیوں کے بارے میں لیکچر دیا۔مقامی جماعت نے مہمان نوازی کا حق ادا کیا اور ان کے چیف کو اسلامی لٹریچر پیش کیا جس پر ان لوگوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا۔ازاں بعد ایک روز جناب فرخ صاحب احباب جماعت کے ساتھ ان کی بستی میں بھی تشریف لے گئے اور ان میں کا ویتی اور انگریزی لٹریچر تقسیم کیا۔۲۴ نومبر کو نجی ایک خطرناک سمندری طوفان کی زد میں آگیا۔کروڑوں روپے کا نقصان ہوا کئی جانیں ضائع ہوئیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے احباب بڑی حد تک محفوظ رہے۔احمد یوں نے مصیبت زدہ لوگوں کی ہر طرح مدد کی۔کھانا کھلایا اور سامان دیا۔سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے ۴۰۰ بجین ڈالر مصیبت زدگان کے لئے نجی امریکن ریلیف فنڈ میں ارسال فرمائے۔علاوہ ازیں مقامی احمد یہ جماعت نے مالی قربانی پیش کی۔سال کے آخر میں مشن کی دینی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئیں۔ریڈیو پر تقاریر ہوئیں۔لمباسہ (Labasa) شہر میں مسجد ناصر الدین کی بنیاد رکھی گئی۔ملک کے طول وعرض میں کثرت سے دینی لٹریچر تقسیم کیا گیا۔۴۰۰ کے قریب تبلیغی خطوط لکھے گئے۔اس مساعی کے نتیجہ میں ۲۲/افراد داخل احمدیت ہوئے۔چنانچہ مولوی غلام احمد صاحب فرخ اپنی ایک مطبوعہ رپورٹ میں تحریر فرماتے ہیں کہ فجی میں لٹو کا (Lautoka) دوسرا بڑا شہر ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے دو سکول جاری ہیں۔تحریک جدید انجمن احمد یہ فارن مشنز سکول اور کنڈرگارٹن سکول۔مکرم مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری اور خاکسار معاینہ کے لئے دو مرتبہ وہاں گئے۔سکول کے انتظامات کی دیکھ بھال کے علاوہ سکول کے اساتذہ و طلباء کو خطاب بھی کیا اور انہیں نصائح کیں۔دومرتبہ سٹاف میٹنگز ہوئیں۔طوفان کی وجہ سے ہمارے سکول کے اکثر کمروں کی چھت بھی اڑ گئی تھی جس کو اب دوبارہ تعمیر کیا جارہا ہے۔ان دونوں سکولوں کے تعلیمی نتائج اللہ تعالیٰ کے فضل سے کافی اچھے ہیں اور اس علاقہ کے لوگوں پر اس کا اتنا اثر ہے کہ وہ جماعت کی تعلیمی اور اسلامی خدمات کے معترف ہیں۔علاقہ کے سینکڑوں لوگوں کو جن کے مکانات تباہ ہو گئے تھے عرصہ تک احمد یہ سکول کی ایک عمارت میں جو بیچ رہی تھی رہائش کے لئے جگہ دی گئی اور ہر ممکن خدمت ان کی کی گئی۔ان میں سے کئی لوگ اب ہمارے سکول کی عمارت کی تکمیل