تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 386 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 386

تاریخ احمدیت۔جلد 28 386 سال 1972ء دوسری نشست میں شیخ امام سیسے پرنسپل گورنمنٹ سکول بو کی زیر صدارت مولوی صفی الرحمن صاحب خورشید نے سیرت مسیح موعود علیہ السلام کے موضوع پر اور مولوی مبارک احمد صاحب نذیر پرنسپل احمد یہ سیکنڈری سکول جو رونے حضرت مسیح علیہ السلام از روئے قرآن کے موضوع پر خطاب فرمایا۔(۲۲ دسمبر ) آخری اجلاس مولوی بشیر احمد صاحب شمس کی صدارت میں ہوا جس میں سب سے پہلے جماعت احمد یہ سیرالیون کے نائب صدر پیرا ماؤنٹ چیف وی وی کالون (Kallon۔۔) نے تربیت اولا د اور والدین کی ذمہ داریاں" کے عنوان پر تقریر کی۔بعد ازاں سیرالیون کی دو معزز شخصیتوں مسٹر سلیمان باہ ( فولانی قبیلہ سے تعلق رکھنے والے عرب نژاد اور کینما کے مشہور مسلمان تاجر جو متعدد اسلامی مدارس کی تعمیر اور اجراء کے لئے فراخدلی سے مسلم تنظیموں کی مدد کرتے رہے ) اور جناب یوسف مصطفیٰ (انہی دنوں بوشہر میں ” جمال عبد الناصر سکول‘ مقامی مسلم برادر ہڈ مصری علماء اور مصری سفارتخانے کے تعاون سے جاری ہوا تھا۔یوسف مصطفی صاحب اس سکول کے پرنسپل تھے ) نے نہ صرف اپنے قلبی تاثرات کا اظہار کیا بلکہ جماعت احمدیہ کی شاندار خدمات سے متاثر ہو کر جماعت احمدیہ میں شمولیت کا اعلان فرمایا۔مولانا بشیر احمد صاحب شمس نے الوداعی خطاب فرمایا۔اس کا نفرنس کے موقع پر جماعت احمدیہ کی مجلس شوریٰ بھی منعقد ہوئی اور نصرت جہاں سکیم سے وابستہ احمدی ڈاکٹروں نیز مقامی اور پاکستانی مبلغین کے خصوصی اجلاس بھی ہوئے جن میں اہم فیصلے کئے گئے۔ان بابرکت ایام میں لجنہ اماءاللہ سیرالیون کے سالانہ اجتماع کا انعقاد بھی ہوا۔85 غانا جماعت غانا کی چھیالیسویں سالانہ کانفرنس غانا کی احمدی جماعتوں کی چھیالیسویں سالانہ کا نفرنس مورخہ ۶ جنوری تا ۸ جنوری ۱۹۷۲ء سالٹ پانڈ میں منعقد ہوئی۔اس کا نفرنس میں کم و بیش آٹھ ہزار اشخاص شامل ہوئے۔جن میں ملک کی متعدد نامور اور ممتاز شخصیتیں شامل ہوئیں۔جن میں تین پیراماؤنٹ چیفس متعددممبران پارلیمنٹ اور پاکستانی ہائی کمشنر بھی شریک ہوئے۔اس کا نفرنس میں حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کا وہ خصوصی پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا جو حضور نے اس موقع کے لئے از راہ شفقت ارسال فرمایا تھا۔اس پیغام میں حضور نے جماعت احمد یہ غانا کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے یہ نصیحت فرمائی تھی کہ وہ اپنی مساعی کو تیز سے تیز تر کر دیں تا کہ ہم