تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 387 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 387

تاریخ احمدیت۔جلد 28 387 سال 1972ء اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب ہوسکیں۔کا نفرنس سے متعدد مقررین نے خطاب فرمایا جن میں تین پیرا ماؤنٹ چیف اور پاکستان کے ہائی کمشنر برائے غانا بھی شامل تھے۔ہائی کمشنر صاحب نے اپنی تقریر میں پاکستان سے آنے والے مبلغین ، ڈاکٹروں اور استادوں کی تعریف فرمائی جو اہل غانا کی بے لوث خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔آپ جماعتی نظم و ضبط سے بھی بہت متاثر ہوئے۔اس کانفرنس کی روداد اخبارات میں شائع ہوئی نیز ریڈیو سے اس کی خبر نشر ہوئی۔86 یہ سال مشن کے لئے ایک ابتلا کا دور بھی تھا اور نصرت الہی کا چمکتا ہوا نشان بھی جس کی ایمان افروز تفصیل مولوی عطاء اللہ صاحب کلیم امیر جماعت احمدیہ غانا کے قلم سے سپر د قر طاس کی جاتی ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں:۔یہ واقعہ نصرت جہاں آگے بڑھو اسکیم کے ماتحت غانا میں جاری شدہ چار ہسپتالوں میں سے وسطی ریجن کے قصبہ اگونا سویڈ رو کے ہسپتال سے تعلق رکھتا ہے۔اس کے پہلے ڈاکٹر مکرم ڈاکٹر آفتاب احمد صاحب ایم بی بی ایس تھے۔جو ۱۹۷۱ ء میں وہاں پہنچے اور اخلاص سے خدمت خلق کا فریضہ سرانجام دینا شروع کیا۔ہسپتال ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں تھا اور چونکہ اصل مقصد جلد از جلد علاج کی سہولتیں مہیا کرنا تھا۔مکرم ڈاکٹر صاحب نے عام لکڑی کے میز پر ہی آپریشن کرنے شروع کر دیئے۔اللہ تعالیٰ شافی مطلق اُن کے مریضوں کو شفا عطا فرما دیتا اور آپریشن کامیاب ہوتے رہے۔وسطی ریجن کے ریجنل میڈیکل آفیسر ایک بنگالی ہندو تھے۔جب وہ ہسپتال کے معاینہ کے لئے آئے تو وزارت صحت کے معیاری آپریشن میز کو نہ پاکر آگ بگولہ ہو گئے۔مکرم ڈاکٹر صاحب نے حقیقت حال کا ذکر کر کے بتایا کہ معیاری آپریشن میز مارکیٹ میں مہیا نہیں ہے مگر ریجنل میڈیکل آفیسر نے کسی معذرت کو قبول نہ کیا۔پہلے تو آپریشن بند کرنے کا حکم دیا گیا بعد میں مرکزی وزارت صحت میں رپورٹ کر کے فروری ۱۹۷۲ ء میں ہسپتال بند کروا دیا اور اس طرح علاقہ کے لوگوں کو جماعت کی طرف سے مہیا کردہ طبی سہولتوں سے محروم کر دیا۔خاکسار جب مارچ ۱۹۷۲ء میں آخری مرتبہ غانا پہنچا تو ہسپتال کے اجراء کے لئے ریجنل میڈیکل آفیسر، ریجنل کمشنر وسطی ریجن اور مرکزی وزارت صحت نے متعدد افسران سے ملاقاتیں کیں مگر بے سود ثابت ہوئیں۔معیاری آپریشن میز مارکیٹ میں آنے پر چھ ہزار چارصد روپے کا خریدا