تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 27
تاریخ احمدیت۔جلد 28 27 سال 1972ء تقریب میں حضور انور کے علاوہ صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے متعدد ناظر و وکلا صاحبان، جامعہ احمدیہ اور تعلیم الاسلام کالج کے پرنسپل اور دیگر متعدد اصحاب نے بھی شرکت فرمائی۔حضور انور کی تشریف آوری کے بعد ملک حبیب الرحمن صاحب نے حضور کی خدمت میں ایڈریس پیش کیا۔ایڈریس پڑھے جانے کے بعد حضور نے ورزشی مقابلہ جات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلباء کو مصافحہ کا شرف بخشا اور اپنے دست مبارک سے ان میں انعامات تقسیم فرمائے تقسیم انعامات کے بعد حضور نے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری اس دنیا میں اپنی خلق ( پیدائش ) کو کچھ اس طرح بنایا ہے کہ ابتداء سے ہی اس کے اندر ترقی کرنے اور انعامات و ثمرات حاصل کرنے کی قابلیتیں اور طاقتیں موجود ہوتی ہیں گو یا ترقی کرنے کی جو انتہائی حد ہر خلق کے لئے مقرر ہوتی ہے وہ اس کی گھٹی میں پڑی ہوتی ہے یہ الگ بات ہے کہ ہم اس سے اپنی غفلت اور ستی کی وجہ سے فائدہ نہ اٹھائیں مثلاً ایک پھل کا بیج جب بویا جاتا ہے تو اس میں اول دن ہی وہ تمام خاصیتیں موجود ہوتی ہیں جو اسے میٹھا اور لذیذ بناتی ہیں۔اسی طرح ہر بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ترقی کی جو انتہائی حد مقرر کی ہوتی ہے۔اس کی صلاحیت اول دن سے ہی اس کے اندر موجود ہوتی ہے یہ ان کے اساتذہ کا کام ہے اور ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں پر ان کی اس اہلیت اور ترقی کرنے کی قابلیت کو واضح کریں اور اس کی نشونما کے مناسب سامان مہیا کریں۔“ حضور نے فرمایا: ”انسان اس وجہ سے نقصان اٹھاتا ہے کہ اسے پتہ نہیں ہوتا کہ اس کے اندر کیا جو ہر مخفی ہیں اور اس نے ان کی بدولت کیا بننا ہے۔اگر بچوں پر شروع سے ہی یہ واضح کر دیا جائے کہ ان کے اندر ترقی اور عروج حاصل کرنے کی بہت سی قابلیتیں اور جو ہر موجود ہیں اور وہ ان سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتے ہیں تو وہ یقیناً بہت ترقی کر سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بہت سے انعامات کے وارث ہو سکتے ہیں۔حضور نے بچوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیشہ اپنے ذہنوں میں یہ رکھو کہ تمہارے اندر