تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 28
تاریخ احمدیت۔جلد 28 28 سال 1972ء ترقی کرنے کی انتہائی صلاحیتیں اور جو ہر موجود ہیں۔اس لئے تم نے آگے ہی آگے بڑھنا ہے۔اور چھلانگیں لگا کر آگے بڑھنا ہے اور اس طرح ہاتھوں ہاتھ اللہ تعالیٰ کے انعامات اور شیر میں ثمرات کو حاصل کرنا ہے انہیں حاصل کرنے کی صلاحیت تمہارے اندر موجود ہے ضرورت صرف اس سے فائدہ اٹھانے کی ہے۔اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی تو فیق عطا فرمائے۔آمین۔“ اس کے بعد حضور نے اجتماعی دعا کرائی اور پھر مکرم ہیڈ ماسٹر صاحب اور مہمانوں کی معیت میں سکول کے اس کمرہ میں تشریف لے گئے جہاں پر چائے کا انتظام تھا۔یہاں سے فارغ ہونے پر حضور نے پھر دعا کرائی۔اور پھر سکول کے جملہ اساتذہ کو مصافحہ کا شرف بخشا اس کے بعد حضور واپس تشریف لے گئے۔19 ایک فتنہ کا بے نقاب ہوتا اور اس کی سرکوبی مارچ ۱۹۷۲ء میں بعض منافقین نے نظام خلافت کے خلاف مرکز خلافت میں رابعہ انقلابی کے فرضی نام سے ایک فتنہ برپا کرنے کی کوشش کی جسے سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۱۰ مارچ ۱۹۷۲ء کے خطبہ جمعہ میں پوری طرح بے نقاب کر دیا۔چنانچہ حضور نے قرآن مجید کی آیت اِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّادِ (النساء : ۱۴۶) کی تلاوت فرمانے کے بعد فرمایا کہ منافق مصلح کی شکل میں فتنہ و فساد پھیلاتا ہے اور جھوٹ بول کر مومنوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا جہنم کی شدید ترین آگ مقرر فرمائی۔اس کے بعد حضور نے بعض منافقین کے چھ سراسر غلط اور بے بنیاد الزامات کی حقیقت کو واضح کیا اور مقام خلافت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ خلیفہ خدا تعالیٰ خود بنا تا ہے اور اس کی تائید و نصرت فرماتا ہے چنانچہ خلافت ثالثہ کو بھی اللہ تعالیٰ کی مدد اور تائید حاصل ہے جس کی وجہ سے منافقین کبھی اپنے مکروہ عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔حضور کا یہ ایمان افروز خطبہ کم و بیش ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہا۔20 سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کے اس پر جلال، پر شوکت اور باطل شکن خطبہ سے اہم اقتباسات درج ذیل ہیں۔(مکمل خطبہ خطبات ناصر جلد چہارم صفحہ ۸۱ تا ۱۱۲ پر موجود ہے۔)