تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 26
سال 1972ء 26 تاریخ احمدیت۔جلد 28 statement shows that the point vehemently argued by the learned counsel for the contesting defendant was not at all raised in the written statement and therefore, it appears to me that it is just an afterthought"۔ترجمہ : ” فریقین کے فاضل وکلاء کے طویل زبانی اور تحریری دلائل پر پوری طرح غور و فکر کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ فریقین کے مذہبی عقائد پر عدالتی محاکمہ نہ تو از روئے قانون درست ہے اور نہ ہی قرین مصلحت۔جو مختلف فرقے اپنے آپ کو ہمارے مذہب کی طرف منسوب کرتے ہیں ان کے مابین زیر بحث قسم کے داخلی مباحث کے متعلق اگر سول عدالتیں اپنے اخذ کردہ نتائج کوریکارڈ کرنے میں خود کو آزاد سمجھنے لگیں تو میری حتمی رائے یہ ہے کہ سول عدالتوں کا یہ طرز عمل اسی نوعیت کے لا تعداد مقدمات کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا اور ان مقدمات کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہمارے عظیم ترین اور اعلیٰ ترین مذہب اسلام کے اندر مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کے مابین نفرت انگیز فروعی جھگڑے اٹھانا شروع کر دیں گے۔حالانکہ اسلام ایسے عمل یا معنی خیز حرکات سے سختی کے ساتھ منع کرتا ہے جن سے اسلام کے ماننے والوں کے درمیان مناقشت کی حوصلہ افزائی ہوتی ہو۔پس کسی فرقہ کے خالصہ مذہبی عقائد کے بارہ میں چھان بین اور جانچ پڑتال کرنے اور اس بحث کے متعلق کہ آیا کوئی مسلمان کہلانے والا فی الحقیقت مسلمان ہے فیصلہ صادر کرنے کا نہ مذہبی اور نہ قانونی جواز موجود ہے۔میرے نزدیک زیر بحث معاملہ کا حقیقی عدالت کے دن یعنی بروز قیامت ہی فیصلہ صادر ہوگا لہذا میں پورے عجز کے ساتھ اس معاملہ کی مزید جستجو اور تعاقب سے دستبردار ہونے کو ترجیح دوں گا۔تاہم یہ امر بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ تحریری بیان کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مدعاعلیہ کے فاضل وکیل نے جس نکتہ پر پورے جوش و خروش سے بحث کی ہے اسے تحریری بیان میں سرے 18 66 ے اٹھایا ہی نہیں گیا۔لہذا میرے نزدیک یہ خیال ہے ہی بعدکی پیداوار 1 حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا تعلیم الاسلام ہائی سکول میں خطاب مورخہ ۱۰ مارچ ۱۹۷۲ء کو تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ میں کھیلوں اور ورزشی مقابلہ جات کا انعقاد ہوا جس کی اختتامی تقریب میں سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے از راہ شفقت شرکت فرمائی۔اس