تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 291 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 291

تاریخ احمدیت۔جلد 28 291 سال 1972ء ہے۔فرماتے ہیں کہ آپ نے ۱۹۳۴ء میں بیعت کی تھی۔حاجی امیر عالم صاحب مرحوم کے بھائی تھے۔محکمہ پولیس میں سب انسپکٹر رہے۔پر جوش احمدی تھے۔جب آپ ڈوگرہ حکومت کے عہد میں ۱۹۳۷ء سے قبل بھمبر میں ملازم تھے تو بھمبر کی جامع مسجد میں خطیب مقامی کی عدم موجودگی میں لوگوں کو جمعہ کی نماز پڑھائی۔خطیب کو واپس آنے پر جب معلوم ہوا تو بڑا مشتعل ہوا اور عدالت میں آپ پر توہین مذہب کا دعوی دائر کر دیا اور لکھا کہ ایسے شخص کو ملازمت سے برطرف کر دیا جائے۔آپ کی طرف سے جو وکلاء پیش ہوئے انہوں نے جواباً یہ نکتہ پیش کیا کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر توہین مذہب کا دعوی نہیں چل سکتا۔اس لئے کہ دونوں مذہب اسلام کو ماننے والے ہیں بالآخر آپ باعزت بری کر دیئے گئے۔آپ کو معطلی کے ایام کی تنخواہ بھی ملی اور مخالف فریق آپ کو ملازمت سے برطرف کرا نیکی کوششوں میں ناکام رہا۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظمیں خوش الحانی سے پڑھتے اور اونچی اذان دیا کرتے تھے۔مقامی جماعت کے صدر بھی رہے۔“ محمد عبد اللہ خان صاحب (وفات ۶ دسمبر ۱۹۷۲ء) انیسویں صدی کے ربع آخر میں اور بیسویں صدی کے ربع اول میں ہندوستان کی سیاست کے افق پر علی برادران مولانا محمد علی شوکت علی کا نام گونجتا تھا۔انہی برادران کے ایک بھائی جن کا رجحان سیاست کی بجائے دین کی طرف تھا۔یعنی حضرت مولانا ذوالفقار علی خان گوہر صاحب جو کہ قادیان میں مامور زمانہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ کی غلامی میں آکر قادیان آ کر بس گئے تھے۔جس طرح علی برادران نے سیاست میں نمایاں کام کیا۔آپ نے خدمت دین اسلام میں اپنی تمام تر اعلیٰ صلاحیتیں صرف کر دیں۔حضرت مولانا ذوالفقار علی خان گوہر کے پانچ فرزند تھے۔ایک سرکاری ملازم تھے۔سب کو سلسلہ حقہ احمدیہ حقیقی اسلام کی شاندار خدمات کی توفیق ملی۔محمد عبد اللہ خان صاحب آپ کے تیسرے بیٹے تھے ان سے بڑے مکرم حاجی ممتاز علی خان صاحب کو بھی ہجرت کے بعد قادیان میں بطور درویش خدمت بجالانے کی توفیق ملی۔محمد عبد اللہ خان صاحب بچپن سے ذہین تھے۔تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے میٹرک پاس کیا۔اور پھر کاروبار زندگی میں مصروف ہو گئے۔انگریزی اچھی طرح بول لیتے تھے۔ان کے ان ایام کی رپورٹوں میں