تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 290
تاریخ احمدیت۔جلد 28 ماسٹر چراغ الدین صاحب (وفات ۲۶ نومبر ۱۹۷۲ء) 290 سال 1972ء آبائی وطن کھیوا باجوہ ضلع سیالکوٹ۔ملازمت کے چھ سال بعد عارف والا ضلع ساہیوال میں مستقل رہائش اختیار کر لی۔جہاں ۲۸ سال تک سیکرٹری مال رہے اور ۳۰ سال تک امام الصلوۃ کے فرائض انجام دیتے رہے۔پنشن کے بعد چک ۱۱/۳۰/ ایل ضلع ساہیوال میں رہائش پذیر ہوئے اور تقریباً ۱۰ سال تک امام الصلوۃ رہے۔دعا گو اور صاحب رؤ یا بزرگ تھے۔چنانچہ ان کے بیٹے ماسٹر بشارت احمد صاحب ٹیچر تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ کا بیان ہے کہ:۔’۱۹۵۳ء میں جب احمدیت کی مخالفت عروج پر تھی اور احمد یوں کو گھر سے باہر نکنے کا حکم نہیں تھا والد صاحب عارف والا میں اپنے گھر میں ہم سب بچوں کے ساتھ محصور تھے۔دشمن گھر کو جلانے کا ارادہ کر چکے تھے۔ایک رات آپ نے ہم سب بچوں کو اکٹھا کیا آپ نے عشاء کی نماز پڑھانی شروع کی اور بچوں کو تاکید کی کہ وہ رو رو کر خدا تعالیٰ کے آگے دعا کریں۔کچھ دیر بعد ہم سو گئے۔جب صبح اٹھے تو والد صاحب نے سب کو بلا کر بتلایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ مسلح سپاہی ہماری مدد کے لئے آسمان سے اتر رہے ہیں اور احمدیوں کے مکانوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔اگلے دن آپ کا خواب بالکل پورا ہوا۔ساہیوال کے ڈپٹی کمشنر نے سپاہیوں کی خاص گارڈ احمدیوں کے مکانوں اور جانوں کی حفاظت کے لئے بھجوائی۔وہ سپاہی ابا جان کو ملے تو آپ نے فرمایا کہ یہ سپاہی وہی ہیں جن کو 66 میں خواب میں دیکھ چکا ہوں۔180 منشی فیروز الدین صاحب (وفات ۲ دسمبر ۱۹۷۲ء) آپ کو ٹلی کے ابتدائی احمدیوں میں سے تھے اور حاجی امیر عالم صاحب صدر جماعت احمد یہ کوٹلی کے بھائی اور پر جوش احمدی تھے۔آپ انسپکٹر پولیس تھے۔ملا زمت میں دینداری کا عمدہ نمونہ پیش کیا اور ریٹائر ہونے کے بعد جماعت احمدیہ اور احمدی بچوں کی خدمت کیلئے وقف ہو گئے۔181 مؤرخ کشمیر جناب محمد اسد اللہ صاحب قریشی مربی سلسلہ مرحوم نے اپنی تالیف ” تاریخ احمدیت جموں و کشمیر کے صفحہ ۱۶۳ پر آپ کا حسب ذیل واقعہ قلمبند کیا ہے جس سے آپ کے جوش ایمانی کا پتہ لگتا