تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 288 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 288

تاریخ احمدیت۔جلد 28 288 سال 1972ء احمدی تھے ان کے والد بزرگوار بھی قدیمی احمدی بزرگوں میں سے تھے۔والد صاحب کی وفات کے بعد ساری عمر جماعت احمدیہ کے امام الصلوۃ کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔اور جماعت کی تعلیم و تربیت کرتے رہے۔آپ کو مالی مشکلات کیوجہ سے کچھ عرصہ ترک وطن بھی کرنا پڑا۔آپ مالی مشکلات کے پیش نظر حضور انور کی خدمت میں ربوہ میں حاضر ہوئے۔حضور انور نے کمال شفقت اور ہمدردی مخلوق کے ماتحت مبلغ پانچ صد روپے کی امداد فرمائی۔آپ بوجہ ضعیف العمری اور کمزوری اکتوبر ۱۹۷۲ء میں اپنے گاؤں درگئی میں وفات پاگئے۔مرحوم تقسیم ملک سے قبل کئی بار قادیان دارالامان بھی آئے تھے۔اسی طرح ربوہ میں بھی کئی بار جلسہ سالانہ پر تشریف لاتے رہے۔مرحوم بہت نیک فطرت متقی ، پر ہیز گار اور مخلص احمدی تھے۔175 ملک عبد المغنی صاحب (وفات ۳ نومبر ۱۹۷۲ء) آپ انگریزی عہد حکومت میں ایک کلرک کے طور پر ملازم ہوئے اور اپنی محنت و قابلیت کی بناء پر افسر خزانہ کے مرتبہ تک جا پہنچے۔دوران ملازمت جہاں جہاں رہے کوئی نہ کوئی جماعتی عہدہ آپ کے پاس رہا محمود آباد ضلع جہلم کے ۸ سال تک صدر رہے۔بعد ازاں عرصہ تک جماعت راولپنڈی کے نائب امیر اور سیکرٹری مال مرکزی کے فرائض نہایت فرض شناسی اور بصیرت و فراست سے سرانجام دیتے رہے۔76 176 چوہدری احمد جان صاحب امیر جماعت احمد یہ راولپنڈی نے ان کی رحلت پر تحریر فرمایا کہ:۔محترم ملک صاحب موصوف راولپنڈی کی کچہری میں افسر خزانہ تھے اور اپنے عملہ کے ضلعی حکام کے نزدیک بڑی عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔مخلوق خدا کے ہمدرد اور ان کی جائز ضرورت کے وقت ممد و معاون اور مددگار ثابت ہوئے تھے۔مرحوم نہایت نیک سیرت اور اپنے اندر رفق کا پہلو غالب رکھتے تھے۔ہر ایک سے ملاطفت سے پیش آنا ان کا طرہ امتیاز تھا۔مومنانہ فراست کے مالک مخلص محنتی اور شعائر اسلام کے پابند تھے اور خوش قسمتی سے رویائے صادقہ کی نعمت سے بھی نوازے گئے تھے۔‘“۔177