تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 289 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 289

تاریخ احمدیت۔جلد 28 289 سال 1972ء جناب شیخ محبوب عالم صاحب خالد ایم اے ناظر بیت المال آمدر بوہ نے لکھا:۔ملک عبد المغنی صاحب مرحوم ریٹائرڈ افسر خزانہ جماعت احمد یہ راولپنڈی کے نہایت سرگرم کارکن تھے۔نائب امیر اور مرکزی سیکرٹری مال کے فرائض ایک عرصہ تک باحسن طریق نہایت شوق کے ساتھ سرانجام دیتے رہے۔دعا گو، خاموش طبع ، منکسر المزاج ، سلسلہ کے فدائی ، خدمت دین میں رات دن ایک کر دینے والے اور انتھک کوشش کرنے والے بزرگ تھے۔مشکلات سے گھبراتے نہیں تھے۔ہزاروں دقتوں کے باوجود دعاؤں کے ساتھ کام جاری رکھتے۔ایک دفعہ خاکسار سے ذکر فرما رہے تھے کہ فلاں دوست کے پاس محصل ۱۲ دفعہ اور میں 9 دفعہ وصولی کے لئے گیا مگر کامیابی نہ ہوئی۔میں نے ہمت نہ ہاری آخر اللہ تعالیٰ نے کامیاب کرد یا اور اس دوست نے رقم ادا کر دی۔ایک بار انہوں نے یہ بھی ذکر فر مایا کہ ایک سال وصولی بہت کم تھی ان کی کمر ہمت ٹوٹ چکی تھی۔۱/۲۰ پریل کی رات کو مایوسی کی حالت میں سوئے۔رات کو خواب میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث تشریف لائے اور فرمایا اٹھو اور کام کرو۔یہی تو کام کرنے کا وقت ہے۔اگلی صبح اٹھے اور کمر ہمت کس بی۔دوبارہ کام شروع کر دیا اور اسی میں رات دن ایک کر دیا۔اللہ تعالیٰ نے ان کی کوششوں کو اپنے فضل سے نو انرا۔خاصی رقم وصول ہو گئی۔الحمد للہ۔صاحب رؤیا اور کشوف تھے۔ایک بار انہوں نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے متعلق بھی ایک مبشر خواب دیکھا تھا جس کا حضور انور نے مجلس عرفان 166 میں بھی ذکر فرمایا تھا۔“ 178 ملک گل محمد صاحب (وفات ۱۲ نومبر ۱۹۷۲ء) سلسلہ کے قدیم خادم مکرم ملک گل محمد صاحب مورخہ ۱۲ نومبر ۱۹۷۲ء کو بعمر ۹۴ سال وفات پا گئے۔مرحوم نے ۱۹۳۶ء میں گورنمنٹ سروس سے ریٹائر ہو کر اپنی خدمات سلسلہ کے لئے پیش کیں جنہیں حضرت مصلح موعود نے منظور فرمایا۔پہلے آپ محمد آباد سندھ میں اسسٹنٹ مینیجر مقرر ہوئے۔بعد ازاں قادیان اور پھر ربوہ میں دارالقضاء کے محکمہ میں کام کرتے رہے۔آپ نے ۱/۷ حصہ کی وصیت کی ہوئی تھی۔مرحوم بہت نیک اور متقی بزرگ تھے۔مورخه ۱۳ نومبر کو بعد نماز عصر حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔179