تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 287
تاریخ احمدیت۔جلد 28 287 سال 1972ء ۱۹۴۷ء کی تقسیم کے وقت کئی کام اللہ تعالیٰ نے آپ سے کروائے۔غالباً سب سے بڑا کام اس وقت کی نزاکت کے لحاظ سے انگریزی تفسیر کے طبع شدہ فرموں کو بحفاظت قادیان سے لا ہورا اپنی نگرانی میں لانا تھا۔مجھے وہ نظارہ خوب یاد ہے جب شیخ صاحب مرحوم یہ قیمتی سرمایہ لے کر ٹیمپل روڈ پہنچے تھے۔وہ ایام خدا تعالیٰ کی نصرت کے ایام تھے۔حضرت مصلح موعود ہنوز ٹیمپل روڈ میں مقیم تھے اور قادیان سے جماعت احمدیہ کے قیمتی سامان اور ریکارڈ کے انخلاء کی نگرانی فرما رہے تھے۔انہی دنوں کی بات ہے کہ ہمارے انگریزی ترجمہ و تفسیر کے چھپے ہوئے فرمے لاہور پہنچے اور سب نے دیکھ کر اطمینان کا سانس لیا۔اللہ تعالیٰ نے ان کے کاموں میں ان کا ساتھ دیا اور یہی ان کے کارناموں کے مفید اور بابرکت ہونے کا سرٹیفکیٹ ہے۔ذاتی کردار بھی ان کا ایک مشعل راہ ہے۔اپنے جوان اور ہونہار بیٹے کی جدائی کو کس صبر اور رضا سے قبول کیا سبحان اللہ۔“ سلسلہ احمدیہ کے ممتاز بزرگ، نامور قانون دان، ماہر لسانیات حضرت شیخ محمد احمد مظہر صاحب 66 نے تحریر فرمایا کہ آخر میرے دوست بزرگ اور قدردان اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔انا للہ و انا الیه راجعون۔کوئی ایک ماہ ہوا کہ انہوں نے میرے عیادت نامہ کا جواب اپنے قلم سے لکھا تھا اور اپنا آخری وقت ظاہر کیا تھا۔حادثہ کی موت ہے بدرجہ شہادت۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔مرحوم احمدیت میں مستقیم الحال اور بہادر تھے۔خاکسار کے بڑے مہربان تھے۔درثمین فارسی کے ترجمہ کی تصحیح خاکسار سے کروائی اور یہ ان کی مہربانی تھی اور قدرشناسی۔ہجرت کے بعد پاکستان میں اپنے قلم سے جو مقام انہوں نے بے سروسامانی کے باوجود پیدا کیا وہ انہی کا کام تھا۔علم کے بحر ز خار لیکن مجسم انکسار۔میں نے جتنے بھی بے بدل عالم دیکھے انہیں منکسر المزاج ہی دیکھا۔یہی خُو بو مرحوم کو بفضل خدا حاصل تھی۔پانی پت میں بڑے بڑے نامی ادیب پیدا ہوئے۔حالی ، وحید الدین سلیم وغیرہ ، مرحوم انہی چندلوگوں کے ہم پلہ تھے۔174 مولوی عبد العلی صاحب آف درگئی (وفات اکتوبر ۱۹۷۲ء) مولوی عبدالعلی صاحب مرحوم علاقه خوست،افغانستان کے رہنے والے تھے۔آپ پیدائشی