تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 281
تاریخ احمدیت۔جلد 28 281 سال 1972ء جماعت کے کام کرنے کی اکثر تلقین کیا کرتے تھے اور بڑی خوشی محسوس کیا کرتے تھے کہ ان کے بچے جماعتی کاموں میں حصہ لیتے ہیں۔بڑے مخلص انسان تھے۔آپ ہر سوسائٹی کے آدمی سے مل کر اس کو اسلام کی تعلیم کا سبق دے دیتے تھے کسی سے ڈرتے نہ تھے۔نہایت ہی خوبصورت شخص تھے۔چہرہ 66 بڑا منور تھا۔168 با بوعبد العزیز صاحب ( وفات ۸/اکتوبر ۱۹۷۲ء) حضرت خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب کے برادر صغیر، بابو عبد الحمید صاحب مزنگ لاہور انچارج دفتر جماعت احمدیہ لاہور ) کے برادر اکبر اور شیخ محبوب عالم صاحب خالد ایم اے ناظر بیت المال آمد کے سگے چچا تھے۔نہایت مخلص اور بے نفس بزرگ تھے۔۱۹۳۵ء میں سرکاری ملازمت سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد ایک لمبے عرصہ تک پہلے قادیان پھر ربوہ میں سلسلہ احمدیہ کی خدمات بجالاتے رہے۔آپ سابق سیکرٹری مجلس کار پرداز ربوہ بھی تھے۔مقبول شاہ صاحب خلیل ( وفات ۸ /اکتوبر ۱۹۷۲ء) بچپن سے ہی نیک کاموں کی طرف لگاؤ رہتا تھا۔۱۹۳۰ء میں بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں شامل ہوئے۔اپنے خاندان میں واحد احمدی تھے۔بیعت کرنے کے بعد نامساعد حالات کا سامنا بھی کرنا پڑا اور احمدیت کی خاطر بڑی بڑی تکالیف بھی آئیں جنہیں آپ نے بڑی جانفشانی سے برداشت کیا اور ہر موقع پر ثابت قدم رہے۔مرحوم شروع سے ہی تہجد گزار اور دعا گو اور صاحب رؤیا اور صاحب کشوف تھے۔گفتگو میں ایسی لذت اور شیرینی تھی کہ دوست اور دشمن سب ان کے گرویدہ ہو جاتے تھے۔۱۹۳۸ء میں صدرانجمن احمدیہ کے کارکن بھی رہے۔میٹرک کے بعد پرائیویٹ طور پر ایف اے، بی اے اور ایل ایل بی کے امتحانات پاس کئے۔اس کے علاوہ اردو، پشتو میں شعر بھی کہتے تھے۔170 مولا ناشیخ محمد اسماعیل صاحب پانی پتی (وفات ۱۲ /اکتوبر ۱۹۷۲ء)