تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 280 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 280

تاریخ احمدیت۔جلد 28 وو رو 280 سال 1972ء چوہدری صاحب مرحوم اپریل ۱۹۶۱ء میں یوگنڈا سے انگلستان تشریف لائے تھے۔ان دنوں میرے والد چوہدری محمد حسین صاحب مرحوم و مغفور امیر جماعت احمد یہ ملتان بھی لندن تشریف رکھتے تھے۔مکرمی چوہدری صاحب سے چند ملاقاتوں میں ہی مکرمی ابا جان کی بڑی دوستی ہو گئی۔ابا جان بار بار فرما یا کرتے تھے کہ چوہدری صاحب بڑی تندہی سے جماعت کا کام کرنے والے ہیں“۔اس کے کچھ عرصہ بعد ان کو جماعت کا جنرل سیکرٹری چنا گیا۔پچھلے گیارہ سال کے عرصہ میں مکرمی چوہدری صاحب جماعت انگلستان کی مختلف طریق سے مدد کرتے رہے۔چنانچہ آپ جماعت کے ماہوار رسالہ مسلم ہیرلڈ کے ایڈیٹر بھی تھے۔اس کے علاوہ آپ جماعت کے حساب بھی آؤٹ کرتے تھے۔پھر نصرت جہاں ریز روفنڈ“ کا سارا کام بھی ان کے سپر د تھا۔جب بھی مسجد جانے کا اتفاق ہوتا مکرم چوہدری صاحب مسکراتے ہوئے چہرے سے اپنے کام میں مشغول ملتے۔سکول سے فارغ ہو کر سیدھے مسجد آتے اور کئی کئی گھنٹے روزانہ سلسلہ کا کام کرتے تھے۔اکثر اوقات گھر سے اپنے ساتھ کھانے پینے کا سامان بھی لے آتے تا کہ کافی دیر تک مسجد کا کام کر سکیں۔فرمایا کرتے تھے کہ ”مجھے سلسلہ عالیہ احمدیہ کا کام کر کے بڑا لطف آتا ہے۔آپ کو کئی مرتبہ مسجد میں کھانا وغیرہ تیار کرنے کا موقع ملا۔آپ نے بڑی محنت اور جانفشانی سے نہایت ہی عمدہ اور لذیذ کھانا پکا یا جس کی بڑی تعریف ہوئی۔تقریباً ۴ سال کی بات ہے کہ مکرمی بشیر احمد خان صاحب رفیق امام مسجد فضل لندن نے جماعت کی پرانی کار فروخت کی جو کہ چوہدری صاحب نے خرید لی۔اس دن سے انہوں نے یہ کار مسجد کی خدمت کے لئے وقف کر دی تھی اور جب بھی کسی کو ضرورت ہوتی بڑی خوشی سے دیتے اور کئی بار احباب جماعت کے گھر فون کر کے کہتے کہ میری کار کیوں نہیں لے جاتے۔مختلف سکولوں میں پڑھانے اور مذہب میں غیر معمولی طور پر دلچسپی لینے کی وجہ سے ان کا قرآن پاک اور بائیبل کا علم بہت وسیع تھا جس سے ان کو تبلیغ کے کاموں میں بڑی مددملتی تھی۔انہوں نے قرآن پاک کا بائیبل سے مقابلہ کر کے کئی بار مسلم ہیرلڈ میں مختلف مضامین لکھے جو بہت پسند کئے گئے اور غیر از جماعت نے بھی بڑی تعریف کی۔جماعتی کاموں میں محترم چوہدری صاحب مرحوم کا بہت بڑا حصہ ہوتا تھا۔محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی کئی تازہ چھپی ہوئی کتب کی پروف ریڈنگ بھی انہی کی کی ہوئی ہے۔اپنے بچوں کو