تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 278
تاریخ احمدیت۔جلد 28 278 سال 1972ء اس کے لئے جماعت کے ایک ایک فرد کو دعوت دی جائے کوئی احمدی فردایسا نہ ہو جو اس تقریب میں شامل نہ ہو۔میں غریب آدمی ہوں۔بڑی دعوت کرنے کی مجھ میں طاقت نہیں اس لئے میں نے لکھا ہے کہ چاہے آدھی آدھی پیالی چائے ہی پلائیں لیکن بلائیں ضرور۔شادی کے بعد آپ کے بیٹے نے شادی کی تفصیلات لکھیں اور بتایا کہ آپ کے ارشاد کے ماتحت ہر فر د جماعت کو دعوت دی گئی اور سب دوستوں نے ہمارے ساتھ تعاون فرمایا تو آپ بہت خوش ہوئے اور آپ بار بار فرماتے میری جماعت نے میری غیر موجودگی میں بڑی وفاداری کا ثبوت دیا ہے۔مولوی صاحب مرحوم نہایت بلند اخلاق، حساس اور نیک فطرت انسان تھے۔دوسروں کے جذبات اور خواہشات کا آپ ہمیشہ احترام کرتے۔ایسے نیک اور مخلص انسان ملنے مشکل ہیں۔165 مولانا ابوبکر ایوب صاحب پر اظہار خوشنودی سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے ۲۲ ستمبر ۱۹۷۲ء کے خطبہ جمعہ میں آپ کی مخلصانہ خدمات دینیہ پر اظہار خوشنودی ادا کرتے ہوئے فرمایا:۔”ہمارے محترم بھائی ابوبکر ایوب صاحب وفات پاگئے ہیں۔انا للہ و انا اليه راجعون۔مرحوم انڈونیشیا کے رہنے والے تھے۔انہوں نے ہمارے بچپن میں مدرسہ احمدیہ میں تعلیم پائی تھی۔ہم اکٹھے ہی پڑھتے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کو ساری عمر مخلصانہ طور پر خدمت دین کی توفیق عطا فرمائی۔وہ اب ہالینڈ میں مبلغ تھے اور و ہیں میدانِ جہاد میں تبلیغ اسلام کی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے وفات پاگئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور احسن جزاء دے۔ان کا جنازہ یہاں پہنچ چکا ہے میں جمعہ کی نماز کے بعد ان کی نماز جنازہ پڑھاؤں گا۔اس لئے گو بیماری کی وجہ سے مجھے شدید ضعف تھا مگر اس کے باوجود میرا یہاں آنا ضروری تھا تا کہ میں اپنے جذبات کا اظہار کر سکوں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو نسل قربانیاں دینے اور ایثار دکھانے کے لئے عطا فرمائی تھیں ان میں سے اکثر اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔چند ایک باقی ہیں اس کے بعد دوسری نسل پیدا ہوئی۔اس میں سے بھی بہت سے وفات پاگئے۔اللہ تعالیٰ نے بہتوں کو یہ توفیق دی اور دے رکھی ہے کہ وہ اخلاص کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور اپنی عاجزانہ کوششوں اور عاجزانہ