تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 279
تاریخ احمدیت۔جلد 28 279 سال 1972ء دعاؤں کو پیش کرتے رہیں۔ہمارے بھائی ابوبکر ایوب صاحب بھی انہی میں سے ایک تھے جو ”من قضى نحبہ“ کے مصداق بن گئے۔بہت سے زندہ ہیں جو قربانیاں دے رہے ہیں اور اپنے اپنے وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔ہماری دعا ہے بعد کی نسل، اس کے بعد کی نسل اور پھر اس کے بعد کی نسل اور حقیقت تو یہ ہے کہ ہماری خواہش اور کوشش بھی یہی ہونی چاہیے کہ قیامت تک کی ہر احمدی نسل خدا تعالیٰ سے پیار کرنے والی اور خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والی ہو۔اللہ تعالیٰ بعد میں آنے والے مربیوں کو بعد میں آنے والی نسلوں کی تربیت کی توفیق عطا فرمائے۔تاہم جو ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے ہمیں اس ذمہ داری کو کما حقہ پوری توجہ اور دعاؤں اور کوشش کے ساتھ نباہنا چاہیے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہمارے بھائی ابوبکر ایوب صاحب بڑے مخلص احمدی تھے۔خدا کرے کہ جماعت کو اسی قسم کے مخلص دل اور روشن دماغ اور پوری توجہ اور انہماک سے قربانیاں دینے والے سینکڑوں ہزاروں مخلصین ملتے رہیں تا کہ کام کے اندر سہولت اور کام کے اندر وسعت اور کام میں تیزی پیدا ہواور جلد ہی نتیجہ نکلنے کے امکانات پیدا ہو جائیں“۔166 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے مورخہ ۲۲ ستمبر بعد نماز جمعہ مسجد اقصیٰ ربوہ میں آپ کی نماز جنازہ پڑھائی جس میں ہزاروں احباب جماعت نے شرکت کی۔بعد ازاں جنازہ بہشتی مقبرہ لایا گیا جہاں آپ کو قطعہ خاص میں سپردخاک کر دیا گیا۔تدفین مکمل ہونے پر محترم مولانا ابوالعطاء صاحب نے دعا کرائی۔167 چوہدری عبد الرحمن صاحب آف لندن وفات ۷ / ۸/اکتوبر ۱۹۷۲ء کی درمیانی رات بمقام لندن۔تدفین بہشتی مقبره ر بوه) حضرت چوہدری غلام محمد صاحب سابق مینجر نصرت گرلز ہائی سکول قادیان کے فرزند تھے اور جماعت احمد یہ لندن کے سرگرم کارکن تھے۔چوہدری محمد عبد الرشید صاحب ابن حضرت چوہدری محمد حسین صاحب سابق امیر جماعت احمد یہ جھنگ مقیم لندن تحریر فرماتے ہیں کہ:۔