تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 277
تاریخ احمدیت۔جلد 28 277 سال 1972ء تھا۔باوجود اس امر کے کہ آپ جب دوبارہ ہالینڈ تشریف لائے تو شروع ہی سے کسی قدر علیل تھے آپ نے تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا جس سے زائرین کی تعداد میں اضافہ ہوا۔آپ کی سادہ اور شگفتہ طبیعت بھی اسی کشش کا باعث تھی۔آپ کاموں میں بہت با قاعدہ، مالی امور میں بہت محتاط، خوش پوش، ظاہری و باطنی صفائی کا خیال رکھنے والے محنتی اور سلسلہ کے ساتھ والہانہ عقیدت رکھنے والے تھے۔نواحمدی ڈچ احباب کی تعلیم و تربیت کا خانگی خیال رکھتے اور انہیں اپنے سیکھے ہوئے علم کو استعمال کرنے کے علمی مواقع بھی مہیا فرماتے تھے۔الغرض آپ ان گنت خوبیوں کے مالک تھے “۔164 مولانا ابوبکر ایوب صاحب کی دلر با شخصیت اور بلند اخلاق نے جماعت احمدیہ ہالینڈ پر کتنا گہرا اثر ڈالا ہے اس کا کسی قدر اندازہ محترمہ امتہ الحفیظ صاحبہ بیگم جمن بخش صاحب مقیم ہالینڈ کے مندرجہ ذیل تاثرات سے بخوبی ہو سکتا ہے:۔”ہمارے مولوی صاحب ہالینڈ کی جماعت میں بہت ہر دلعزیز تھے۔بڑی ہی سادہ طبیعت کے ، ملنسار، خوش مزاج، زندہ دل اور حساس بزرگ تھے۔حضور پرنور کے ساتھ بکمال اخلاص اور عقیدت رکھتے تھے۔سلسلہ عالیہ احمدیہ کا درد رکھنے والے اور اس سے والہانہ محبت رکھنے والے تھے۔ہمیشہ یہ خیال رکھتے تھے کہ خرچ زیادہ نہ ہو کوئی چیز ضائع نہ ہو۔۔۔وفات سے پہلے اللہ تعالیٰ کے فضل سے یکے بعد دیگرے مولوی صاحب کو کئی خوشیاں نصیب ہوئیں۔آپ نے جلد ہی اللہ تعالیٰ کے حضور چلے جانا تھا اس لئے شاید اللہ تعالیٰ نے آپ کی اہلیہ صاحبہ کو بچوں کی جلد شادیاں کر دینے کی توفیق عطا فرمائی اور اس کے سامان بھی میسر کر دیئے۔جب آپ کی بچی کی شادی تھی آپ کی اہلیہ نے لکھا اپنی کوئی تقریر ٹیپ کر کے ہمیں بھجوائیں۔آپ نے یہ بات ہمیں بتائی تو نجانے کس منشاء الہی کے ماتحت جمن صاحب مولوی صاحب سے اصرار کرنے لگے کہ کب تقریر ٹیپ کرائیں گے۔جب شادی میں صرف پانچ دن باقی رہ گئے تو جمن صاحب خود ہی ایک ریل خرید لائے اور کہا مولوی صاحب آئے تقریر کیجئے۔مولوی صاحب نے تقریر لکھی اور ہمارے ہی گھر آ کر ٹیپ کروائی۔مسلسل ڈیڑھ گھنٹہ کی تقریر جوانوں جیسا لہجہ اور صاف آواز تھی۔پھر ساری تقریر دوبارہ خودسنی اور ایک خاص قسم کی خوشی سے فرمانے لگے اب یہ تقریر گھر گھر اور ایک ایک بچے کے پاس جائے گی اور سب ہی اسے سنیں گے۔یہ آپ کی آخری آواز تھی جو آپ کے عزیزوں کے پاس پہنچی۔آپ نے ہمیں بتایا کہ میں نے اپنے گھر بڑی تاکید سے لکھا ہے کہ بچی کی شادی مسجد میں ہو اور