تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 276
تاریخ احمدیت۔جلد 28 276 سال 1972ء اسی کی طرف جھکیں اور اسی سے دعا کریں کہ اس سے زیادہ خیر خواہ بندہ کا اور کوئی نہیں۔نماز کو ایک ایسا فرض سمجھیں کہ جسے کسی صورت میں ترک نہیں کیا جا سکتا۔حضر سفر، تندرستی بیماری، کسی حالت میں بھی نماز میں کوتاہی نہ ہو۔تبلیغ نہ صرف ایک فرض ہے بلکہ خدمت خلق بھی ہے۔جب انسان دوسرے کو ڈوبتے ہوئے دیکھنا برداشت نہیں کر سکتا وہ اسے خدا تعالیٰ سے دور ہوتے دیکھ کر کب خاموش بیٹھ سکتا ہے۔اخلاق فاضلہ ایمان کی علامتوں میں سے ہیں اور اس کا خوشنما پھل ہیں۔پس اخلاق فاضلہ کے حصول اور ان پر کار بند ہونے کو ہمیشہ مدنظر رکھیں کہ بے ثمر درخت کی طرح وہ ایمان بھی کام کا نہیں جس کے ساتھ اخلاق فاضلہ نہ ہوں۔ہمیشہ مرکز سے تعلق رکھیں کہ جو شاخ جڑ سے کٹ جاتی خشک ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور آپ کے اہل ملک کو ہدایت عطا فرمائے اور آپ کے ملک کو احمدیت کا ایک اہم مرکز بنائے کہ وہ ملک ہندوستان کے سوا سب دوسرے ملکوں سے اس نور کی طرف زیادہ توجہ کر رہا ہے۔والسلام خاکسائی مرزا محمود احمد خلیفۃ السیح الثانی 163 انڈو نیشیا کے بعد آپ کو ہالینڈ میں شاندار تبلیغی خدمات بجالانے کی توفیق ملی اور اپنے اہل وعیال سے ہزاروں میل دور اسی سرزمین میں غریب الوطنی کے عالم میں اپنی جان جان آفرین کے سپر د کر دی اور بالآخر منهم من قضى نحبه“ کے مصداق بن کر رب جلیل و قدیر کے حضور حاضر ہو گئے۔مولانا عطاء المجیب صاحب را شد ایم اے امام مسجد فضل لندن ( جنہیں آپ کی وفات کے بعد عارضی طور پر ہالینڈ مشن کا چارج سنبھالنے کی سعادت نصیب ہوئی) نے اپنے ذاتی مشاہدہ کی بناء پر لکھا کہ:۔”یہاں آنے کے بعد میں نے یہ بات خاص طور پر محسوس کی ہے کہ نہ صرف احباب جماعت پر بلکہ غیر از جماعت احباب پر بھی محترم مولانا ابوبکر ایوب صاحب کے اخلاق فاضلہ اور بلند پایہ شخصیت کا بہت نمایاں اور پائیدار اثر ہے۔ہر ایک کو آپ کا مداح پایا۔مختلف مجالس میں آپ کا ذکر ہوتا رہتا ہے اور احباب جماعت آپ کی نمایاں خوبیوں کو اس محبت اور عقیدت سے بیان کرتے ہیں کہ دل رشک کے جذبات سے بھر جاتا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہر ایک شخص سے آپ کا ذاتی تعلق