تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 255 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 255

تاریخ احمدیت۔جلد 28 رضیہ بیگم صاحبہ 255 سال 1972ء وفات ۲۵-۲۶ مارچ ۱۹۷۲ء) رضیہ بیگم صاحبہ اہلیہ مولانا محمد صادق صاحب رئیس التبلیغ انڈونیشیا مورخہ ۲۵-۲۶ مارچ ۱۹۷۲ء کو لاہور میں انتقال فرما گئیں۔مرحومہ موصیہ تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت قاری غلام یسین صاحب کی بیٹی تھیں۔مرحومہ آٹھ سال تک اپنے خاوند محمد صادق صاحب کے ساتھ انڈونیشیا میں خدمت اسلام میں مصروف رہیں۔بعد ازاں پاکستان تشریف لے آئیں۔آپ بہت نیک دعا گو عبادت گزار اور احمدیت کی عاشق و فدائی خاتون تھیں۔136 حضرت محمد رمضان صاحب آف گھنو کے حجہ (وفات: ۲۹ مارچ ۱۹۷۲ء) آپ نہایت مخلص پابند صوم و صلوۃ ، راست گو اور صابر و شاکر تھے۔جماعتی مالی تحریکوں میں اپنی استطاعت کے مطابق ضرور حصہ لیتے۔آپ اگر چہ بالکل ناخواندہ تھے لیکن آپ کو تبلیغ احمدیت کا بے حد شوق تھا۔آپ پیدائشی احمدی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پندرہ سولہ سال زمانہ مبارک پایا لیکن ناخواندہ اور قادیان سے دور ہونے کی وجہ سے آپ کی صحبت حاصل نہ کر سکے جس کا انہیں از حد قلق تھا۔آپ کو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے والہانہ عشق تھا۔خلافت اور سلسلہ احمدیہ سے دلی وابستگی تھی۔آپ نے ۲۹ مارچ ۱۹۷۲ء کو وفات پائی۔اگلے روز حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے نماز جنازہ پڑھائی اور بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔137 سید حسن محمد ابراہیم صاحب (وفات: مارچ ۱۹۷۲ء) سیرالیون کی جماعت کے ایک نہایت مخلص ، سلسلہ کے فدائی اور سیرالیون میں ابتدائی لبنانی احمدی سید حسن محمد ابراہیم مارچ ۱۹۷۲ء میں لبنان میں وفات پاگئے۔مرحوم کو سیرالیون میں احمدیت کا پیغام پہنچنے سے قبل ہی عربی رسائل کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد سے آگاہی ہو چکی تھی۔اور آپ کو اس بات کا شدت سے انتظار تھا کہ کسی کے ذریعہ انہیں حضرت مسیح پاک علیہ السلام کی آمد و غرض کے بارہ میں تفصیلی حالات کا علم ہو۔چنانچہ ۱۹۳۷ء میں الحاج مولوی نذیر احمد صاحب علی