تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 256
تاریخ احمدیت۔جلد 28 256 سال 1972ء مرحوم سیرالیون میں مشن کی بنیادرکھنے کے لئے تشریف لے گئے۔تو جب سید حسن صاحب کو آپ کی آمد کا علم ہوا تو آپ نے ان سے فوری طور پر رابطہ پیدا کیا۔آپ نے مولوی صاحب کی تبلیغ سے احمدیت قبول کر لی۔احمدیت قبول کرنے کے بعد لبنانی لوگوں نے آپ کی سخت مخالفت کی لیکن آپ کے پائے ثبات میں ذرا بھر بھی لغزش نہ آئی بلکہ اخلاص و قربانی میں ترقی کرتے چلے گئے۔آپ فلسطین سے شائع ہونے والے رسالہ البشری میں مضامین بھی لکھتے رہے۔مکرم محمد طاہر ندیم صاحب مربی سلسله عربک ڈیسک یو کے اپنی کتاب صلحاء العرب وابدال الشام جلد اول کے صفحہ ۱۲۴، ۱۲۵ پر ان کے بارہ میں تحریر کرتے ہیں کہ مکرم سید حسن محمد ابراہیم الحسینی مرحوم سیرالیون کی جماعت کے ایک نہایت مخلص اور عالم دین رکن تھے۔حضرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے انہیں مثالی تعلق محبت و عشق تھا۔اور سلسلہ احمدیہ سے والہانہ عقیدت رکھنے والے لبنانی عرب دوست تھے۔سیرالیون میں جہاں احمدیت کا پیغام پہنچانے میں الحاج مولانا نذیر احمد علی مرحوم کو خاص توفیق ملی وہاں مقامی طور پر احمدیت کی تبلیغ واشاعت کے سلسلہ میں سید حسن مرحوم کی کوششیں بھی نا قابل فراموش ہیں۔سید حسن مرحوم ۱۹۲۷ء میں لبنان سے سیرالیون جا کر تجارت وغیرہ کرنے لگے۔سیرالیون میں احمد یہ مشن کھلنے سے بہت پہلے ہی مرحوم کو بعض عربی اور انگریزی رسائل کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کا علم ہو چکا تھا۔اور وہ اس کوشش میں تھے کہ کسی ذریعہ سے انہیں اس بارہ میں تفصیلی معلومات حاصل ہوں۔چنانچہ ۱۹۳۷ء میں جب حضرت مولانا نذیر احمد علی مرحوم سیرالیون میں با قاعدہ احمد یہ مشن کھولنے کے لئے تشریف لے گئے تو اسوقت سید حسن مرحوم سیرالیون کے جنوبی صوبہ کے ایک گاؤں باؤ کا ہون“ میں کاروبار کرتے تھے۔یہ گاؤں اسوقت سونے کی کانوں کی وجہ سے تجارت کا مرکز تھا۔جب سید حسن صاحب کو الحاج مولانا علی مرحوم کی آمد کا علم ہوا تو انہوں نے فوراً مولانا مرحوم کو باؤ کا ہوں آنے کی دعوت دی جس پر مولانا مرحوم وہاں تشریف لے گئے اور ان کی تبلیغ سے نہ صرف حسن صاحب نے احمدیت قبول کر لی بلکہ کثیر تعداد میں افریقن لوگ بھی بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں شامل ہو گئے۔قبول احمدیت کے بعد سید حسن مرحوم کی ان کی ہم وطن لبنانی تاجروں کی طرف سے شدید مخالفت شروع ہوگئی۔مگر آپ کے پائے ثبات میں کوئی لغزش نہ آئی بلکہ آپ ایمان کی مضبوطی اور