تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 254
تاریخ احمدیت۔جلد 28 254 سال 1972ء ۱۹۴۶ء میں جماعتوں میں بھجوا دیئے گئے۔یہ تیسری کلاس تھی جن کا داخلہ ۱۹۴۶ء میں ہوا اور ستمبر ۱۹۴۷ء میں انہیں ٹریننگ مکمل کر کے جماعتوں میں چلے جانا تھا مگر حالات اپریل ۱۹۴۷ء میں ہی خراب ہونا شروع ہو گئے تھے اور اس تیسری کلاس کا خاصا وقت پہروں اور حفاظتی ڈیوٹیوں میں گزر گیا تھا۔ملک تقسیم ہو گیا اور جب قادیان سے آخری کنوائے ۱۶ نومبر ۱۹۴۷ء کو جارہا تھا تو اس پوری کلاس کو بھی قادیان میں رہنے کی ہدایت ہوئی۔یہ کل ۴۰ طلباء تھے اور ان کے ایک اتالیق مولوی عبدالقادر صاحب احسان یہ جملہ افراد بھی درویشان میں شامل کر دیئے گئے۔پہلی دونوں کلاسوں کو صرف ایک سال پڑھائی اور ٹریننگ کیلئے ملا تھا مگر اس کلاس کو ۱۹۵۰ء تک مسلسل پڑھنے اور ٹرینگ حاصل کرنے کا موقع مل گیا۔اس میں چند طلبہ مولوی فاضل کرکے مرکزی مبلغین میں شمار ہوئے۔ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔(۱)۔مکرم مولوی عبدالحق صاحب فضل۔(۲) مکرم مولوی محمد یوسف صاحب۔(۳) مکرم مولوی عمر علی صاحب بنگالی۔(۴) مکرم گیانی بشیر احمد صاحب ماہل پوری۔گیانی صاحب نے پنجابی میں گیانی کا امتحان دے کر پھر انگریزی کا امتحان دے کر B۔A کر لیا اور عرصہ تک تعلیم الاسلام ہائی سکول میں ہیڈ ماسٹر کی خدمت پر مامور رہے۔اس کلاس میں پانچ لڑ کے بنگال سے تھے ان میں سے ایک مکرم عبید الرحمن صاحب فانی تھے۔آپ بڑے ذہین فہیم اور ہوشیار طالب علم تھے۔۱۹۵۰ء میں جب اس کلاس کے فارغ التحصیل طلباء کو ہندوستان کے مختلف مقامات پر بھجوایا گیا تو مکرم عبید الرحمن صاحب فانی کو بنگال بھجوایا گیا تھا جہاں آپ بنگال کے مختلف مقامات پر خدمت بجالاتے رہے۔سروس کے دوران جب کبھی بھی قادیان آئے ہشاش بشاش آتے اور یہاں آکر ایک فرحت محسوس کرتے۔آخری مرتبہ جب جلسہ سالانہ ۱۹۷۱ء میں شرکت کرنے کے لئے آئے تو جلسہ سالانہ کے چند روز بعد سینہ میں درد کے باعث علیل ہوئے اول اپنے احمد یہ شفاخانہ میں علاج کرایا فائدہ نہ ہونے پر امرتسر لے جایا گیا جہاں بہت سے ٹیسٹ ہونے پر معلوم ہوا کہ ہارٹ اٹیک ہے۔امرتسر میں ہی ہسپتال میں داخل کر دیا گیا اور وہاں علاج ہوتا رہا مگر جوں جوں علاج ہوتا آپ کی صحت مائل بہ انحطاط ہی رہی۔اڑھائی ماہ علاج ہو جانے پر آخر ایک روز ہسپتال میں ہی ہارٹ اٹیک ہوا اور آپ نے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔آپ موصی تھے اور بہشتی مقبرہ قادیان میں مدفون ہوئے۔135 آپ کے ایک صاحبزادے محفوظ الرحمن فانی صاحب بطور نائب افسر لنگر خانہ قادیان خدمت بجالا رہے ہیں۔