تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 227
تاریخ احمدیت۔جلد 28 227 سال 1972ء اور میں اکیلا رہ گیا۔میں نے مکان تبدیل کر لیا لیکن جس مکان میں میں گیا اس کی لینڈ لیڈی سخت متعصب نکلی اور وہاں رہنے سے مجھے یہ نقصان ہوا کہ جو کوئی ملنے کے لئے آتا اسے کہتی کہ یہ اینٹی کرائسٹ (دجال) ہے۔میں نے اس کو سمجھایا کہ دجال ہم نہیں دجال تو وہ ہیں جن میں دجال کی صفات پائی جاتی ہیں۔اس کے بعد میں نے مناسب خیال کیا کہ لنڈن کو اپنا ہیڈ کوارٹر بناؤں۔چنانچہ اب میں نے برٹش میوزیم کے پاس رسل سٹریٹ میں ایک مکان لیا۔وہیں مسٹر کور یو بھی رہتے تھے جو چوہدری صاحب کے ذریعہ مسلمان ہوئے تھے۔وہ ایک قابل شخص ہیں۔ان کا کام یہ ہے کہ انگریزی اخباروں کے تراجم اٹلی میں پہنچاتے ہیں اور اٹلی کے اخباروں کے تراجم انگریزی اخباروں میں دیتے ہیں۔ان سے مل کر کام شروع کیا۔اس طرح میں نے اس جگہ ایک مرکز قائم کر لیا اور مکان پر موٹالکھ کر لگا دیا گیا ”احمدیہ موومنٹ اس کو دیکھ کر بہت لوگ آتے تھے۔بعض اخبارات کے قائمقام بھی آتے تھے۔بعض تو وہی باتیں شائع کرتے جو ہم انہیں بتاتے اور بعض ہنسی بھی کرتے لیکن ان کی ہنسی بھی ہمارے لئے مفید ہوتی تھی۔اس وقت میرا کام یہ تھا کہ خط و کتابت کے ذریعہ تبلیغ کرتا تھا اور جولوگ پہلے مسلمان ہو چکے تھے ان کی تعلیم و تربیت کرتا تھا۔وہاں ایک بڑا ذریعہ مشنری کے اشتہار کا یہ ہے کہ وہاں کا پورا لباس اختیار نہ کرے بلکہ ان سے کچھ امتیاز رکھے کیونکہ اگر بالکل ان جیسا ہی لباس پہن لے تو پھر ان کے لئے کوئی توجہ کرنے کی وجہ نہیں ہوتی۔میں وہاں پگڑی رکھتا تھا۔لیکچروں اور ملاقات کے وقت پگڑی ہی ہوتی تھی البتہ جب کسی دکان میں کچھ خریدنے کے لئے جاتا تو اس وقت ٹوپی پہن لیتا تھا کیونکہ اگر پگڑی رکھے ہوئے دکان میں جائیں تو وہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ کوئی راجہ یا مہاراجہ ہے جو اپنے طرز کو نباہ رہا ہے اور اس پر مطلق ہمارے لباس وغیرہ کا اثر نہیں ہوا۔اس غلط فہمی میں اندیشہ ہوتا تھا کہ شائد وہ اشیاء کی قیمت معمول سے زیادہ نہ وصول کر لیں۔پس میرا یہ طریق تھا که خرید و فروخت کے وقت ٹوپی اور باقی وقتوں میں پگڑی رکھتا تھا۔وہاں جو کچھ کام ہوتا تھا اس کی میں با قاعدہ رپورٹ حضرت خلیفہ اسیح کے حضور بھیجتا رہتا تھا۔مگر جب ۱۹۱۷ ء میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب پہنچ گئے تو پھر حالت ہی بدل گئی۔کام بڑے پیمانے پر شروع ہو گیا اور خدا کے فضل سے دن بدن کامیابی ہونے لگی اور ہندوستان کے اخبارات میں ہماری رپورٹیں با قاعدہ شائع ہونے لگیں۔اب خدا کے فضل سے ہمارا ذاتی مکان وہاں ہو گیا ہے۔مکان کے باہر موٹا لکھا ہوا ہے ”المسجد اور پھر لکھا ہے اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ۔پھر اس کے نیچے لکھا ہے اشهد ان لا اله