تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 226
تاریخ احمدیت۔جلد 28 226 سال 1972ء الفطرت قلوب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا والا و شیدا بنانے کے بعد ۳۱ اکتوبر ۱۹۱۹ء کو انگلستان سے روانہ ہوئے۔آپ پیڈنگٹن ریلوے اسٹیشن سے سوار ہو کر لور پول گئے اور اسی روز جہازسٹی آف کراچی نام پر سوار ہو کر عازم ہند ہوئے۔جس کی خبر حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر مبلغ انگلستان کے قلم سے الفضل ۱۱ دسمبر ۱۹۱۹ء صفحہ ۲ پر شائع ہوئی۔حضرت قاضی صاحب ۲۸ نومبر ۱۹۱۹ء کو انگلستان سے قادیان پہنچ گئے جس کی خبر دیتے ہوئے اخبار الفضل نے لکھا کہ ۲۸ نومبر ۱۹۱۹ء بروز جمعہ جناب قاضی عبداللہ صاحب بی اے بی ٹی مبلغ اسلام ولایت سے بخیر و عافیت قادیان دارالامان پہنچ گئے ہیں۔چونکہ جناب قاضی صاحب کی ولایت سے روانگی کے متعلق کوئی پختہ اطلاع نہیں مل سکی تھی اور نہ ہی بمبئی آ کر انہوں نے جو تار حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو دیا وہ پہنچا اس لئے ان کی آمد بالکل اچانک تھی اور اس کا علم اس وقت ہوا جبکہ جناب قاضی صاحب نے مسجد اقصیٰ میں آکر بآواز بلند مجمع کو السلام علیکم کہا۔نماز جمعہ کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثانی مسجد میں دیر تک جناب قاضی صاحب سے گفتگو فرماتے رہے۔اس خوشی کے موقع پر ہائی سکول اور مدرسہ احمدیہ میں دودن کی تعطیل کی گئی۔78 حضرت قاضی صاحب نے ۳۰ نومبر ۱۹۱۹ء کو مسجد اقصیٰ قادیان میں اپنے لندن مشن کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:۔میں اواخر ۱۹۱۵ء میں یہاں سے روانہ ہوا۔وہ زمانہ جنگ کا تھا۔بمبئی سے سوار ہونے میں دقتیں تھیں اس لئے میں کولمبو کی راہ سے گیا۔اگر چہ جرمنوں نے اس وقت یہ اعلان تو نہیں کیا تھا کہ ہمیں جو جہاز ملے گا اس کو ضرور غرق کر دیں گے مگر ان کی سب میرینز پھیلی ہوئی تھیں اس لئے جہاز راستہ میں چکر کھاتا ہوا جاتا تھا۔رات کو تمام روشنیاں گل کر دی جاتی تھیں کہ کہیں دشمن اچانک حملہ نہ کر دے اور ہر ایک شخص کے پاس ایک ایک لائف بیلٹ ہوتا تھا جو سوتے وقت بھی پاس ہی رہتا تھا۔جہاز غالباً دو ہفتہ کی مسافت کے بعد مارسیلز میں پہنچا اور و ہاں جنگی قانون سے پالا پڑا۔ان دنوں چونکہ جناب چوہدری فتح محمد صاحب کی آنکھیں دکھتی تھیں اس لئے وہ لنڈن سے ۱۲ میل کے فاصلہ پر ایک جگہ رہتے تھے۔مجھے بھی وہاں ہی رہنا پڑا۔ہمارا قیام ایک گھر میں تھا۔اس وقت ہماری تبلیغ بالکل پرائیویٹ حیثیت کی تھی۔وہاں جانے کے چار مہینہ بعد برائٹن میں میرا ایک لیکچر ہوا اور محض خدا کے فضل سے نہایت کامیاب ہوا۔کچھ دنوں بعد چوہدری صاحب تو واپس آگئے