تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 228 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 228

تاریخ احمدیت۔جلد 28 228 سال 1972ء الا الله واشهد ان محمدا عبدہ و رسولہ۔یہ بھی ہمارے اشتہار کا ذریعہ ہے۔بہت سے لوگ ملاقات کے لئے آتے ہیں۔کچھ ان میں سے ہدایت پاتے ہیں اور کچھ قریب ہو جاتے ہیں اور کچھ جیسے آتے ہیں ویسے کے ویسے ہی واپس چلے جاتے ہیں۔جب میں یہاں تھا تو میرا خیال تھا کہ یہ بات کیسے ہو سکتی ہے کہ جب ہمارے پاس حق ہے اور ہم اسے مدلل طور پر پیش کریں گے تو اس کو لوگ رڈ کردیں گے لیکن وہاں جا کر معلوم ہوا کہ اللہ جس کو چاہتا ہے اسی کو ہدایت ہوتی ہے۔اب ماسٹر عبدالرحیم صاحب اور چوہدری صاحب پہنچ گئے ہیں۔کام ہو رہا ہے۔یہ خدا کا فضل ہے۔اب ضرورت ہے بڑے مضبوط فنڈ کی۔مرکز قائم ہو چکا ہے۔اب کام کو زیادہ پھیلانے کی ضرورت ہے۔حضرت خلیفہ اسیح کا منشاء ہے کہ بہت سے احباب وہاں جائیں جو اپنا گزارہ آپ کریں اور مرکز سے تعلق رکھیں۔امید ہے کہ خدا تعالی بڑے بڑے نتائج پیدا کرے گا۔79 مارچ ۱۹۲۳ء میں حضرت مصلح موعود نے شدھی کے خلاف جہاد کا اعلان کیا اس سلسلہ میں حضرت قاضی صاحب کو نائب امیر وفد مجاہدین کی حیثیت سے اچھنیر ہ (ضلع آگرہ )80 اور و تیرہ (ضلع متھرا ) 11 میں تبلیغی خدمات بجالانے کی توفیق ملی تحصیل ماٹ کے ایک گاؤں میں ایک برہمن 81 خاتون رام پیاری نے آپ کے ذریعہ اسلام قبول کیا 82 جس کا اسلامی نام رحمت بی بی رکھا گیا۔آپ کی مجاہدانہ زندگی کا ایک ناقابل فراموش واقعہ ماسٹر محمد شفیع صاحب اسلم امیر المجاہدین حلقه فرخ آباد کے قلم سے ملاحظہ ہو۔فرماتے ہیں:۔اگر چہ آریوں نے ظلم وستم سے تمام گاؤں کو شدھ کر لیا مگر پھر بھی اسلام کے پودے کو جڑ سے نہ کاٹ سکے کیونکہ ایک ستر سالہ بڑھیا بڑے استقلال سے اسلام پر قائم رہی اور آریوں کے ہزار ظلموں پر بھی اس نے اپنا پاؤں نہ ڈگمگایا۔اس کے بیٹوں نے آریوں کے دھمکانے سے اس بڑھیا کو بہت کہا کہ شدھ ہو جاؤ تمام آریہ اور ریاست کے حاکم کہہ رہے ہیں۔جب یہ نیک بخت عورت نہ مانی تو بہت سے دکھ دیئے اپنے گھر سے نکال دیا۔روٹی دینا بند کر دی مگر بڑھیا یہی کہتی گئی کہ بیٹا میں اسلام کو نہیں چھوڑ سکتی چاہے گردن کٹ جائے سبحان اللہ ایمان ہو تو ایسا۔اس بڑھیا کو احمدی مجاہدین سے بہت محبت تھی۔اپنے بچوں سے زیادہ الفت کرتی تھی اور بہت ہمدرد تھی۔چونکہ اس کے بیٹوں نے اسے روک رکھا تھا اس لئے اکثر رات کو چھپ کر مبلغین کے پاس آتی اور اپنا دکھ درد سناتی۔