تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 225
تاریخ احمدیت۔جلد 28 225 سال 1972ء ۱۴۔حضرت قاضی صاحب کی تبلیغی مساعی سے اکتوبر ۱۹۱۹ء میں ایک فاضل یہودی الاصل انگریز مسٹر فیتھ نے اسلام قبول کیا۔جس نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں ایک مفصل مکتوب لکھا جس کا اردو ترجمہ ہدیہ قارئین کیا جا تا ہے (ان کا اسلامی نام حمد سلیمان فیتھ رکھا گیا) بحضور حضرت خلیفۃ ا ح و بسم اللہ الرحمن الرحیم حضرت اقدس۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔میں نہایت خوشی کے ساتھ حضور کو اطلاع دیتا ہوں کہ عرصہ تین برس کا ہوتا ہے جب میں برادرم قاضی عبداللہ صاحب سے پہلے بل ہائڈ پارک لنڈن میں ملا تھا۔گو میں بطور ایک یہودی طالب حق کے لئے ہمیشہ راستی کا متلاشی رہا ہوں مگر مسیح آخر زمان کی صداقت کا انکشاف اس وقت مجھے پر نہ ہو سکا۔میں جنگ میں والنٹیئر ہوکر چلا گیا اور پھر بیمار ہوکر واپس گھر آ گیا۔واپسی کے بعد متواتر برادران مفتی محمد صادق اور قاضی عبد اللہ صاحب کے ساتھ خط و کتابت اور میل و ملاقات کا سلسلہ جاری رہا۔آخرش میں نے حال ہی میں ایک رؤیا دیکھی کہ میں ایک چٹان پر کھڑا ہوں اور ایک پاک صورت انسان مشرقی لباس میں اپنا ہاتھ دوسری چٹان پر سے میری طرف پھیلا کر مجھے ایک رسی پکڑنے کا اشارہ کر رہا ہے اور اس وقت قریب تھا کہ میں غرق ہو جاؤں۔اس رؤیا کے بعد سے میرا کھانا اور سونا موقوف رہا۔میں نے بائبل کے صفحات کی تلاش کی کہ کوئی صداقت میرے اطمینان کے لئے مل جاوے مگر تمام ورق گردانی بے سود ثابت ہوئی۔۱۷ ستمبر ۴ سٹارسٹریٹ پہنچا اور برادران عبداللہ و (مولاناعبدالرحیم ) نیر سے ملا۔ہم نے اکٹھے چائے پی اور قرآن مجید کی خوبیوں پر گفتگو ہوتی رہی۔دورانِ گفتگو میں میں نے اپنی رؤیا سنائی اور ( عبد اللہ و نیر ) نے قرآن پاک سے مجھے میری مطلوبہ آیت دکھائی۔پھر مجھے مقدس حضرت محمود کا فوٹو دکھایا گیا۔اس فوٹو کو دیکھ کر میں نے پہچان لیا کہ یہ وہی مقدس وجود ہے جو رویا میں مجھ سے مخاطب ہوا تھا۔فرق صرف یہ تھا کہ عالم رؤیا میں آپ کا لباس سفید تھا۔ان واقعات کے بعد ایک پاک تحریک میرے اندر ہوئی اور ایک آواز نے مجھے کہا کہ موت آنے سے قبل اس سچائی کو قبول کر لو“۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں نے خدا کی رسی ( حبل اللہ ) کو پکڑ لیا ہے اور صداقت کو قبول کر لیا ہے۔میں نے خداوند واحد سے جو کہ تمام کون و مکان کا ابدالآباد سے اللہ ہے دعا کی ہے کہ وہ میرے گناہ بخشے۔77 حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب چار سال تک انگلستان میں اسلام کا نور پھیلانے اور کئی سعید