تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 224
تاریخ احمدیت۔جلد 28 224 سال 1972ء ۱۲۔حضرت قاضی صاحب نے ایک انگریز دوست کے مدعو کر نے پر لنڈن کے سٹی ٹمپل کے ایک لیکچر ہال میں جہاں لیگ آف ریلیجنس (اتحاد مذاہب) کے قائم ہونے کے بارہ میں کانفرنس ہو رہی تھی ، ایک تقریر کی جس میں اس امر کو پیش کیا گیا کہ ہر مذہب اپنی اپنی خوبیوں کو پیش کرے۔اور دوسروں کے بانیوں اور بزرگوں پر دل آزار حملے نہ کرے۔اسی سے باہمی اتفاق پیدا ہوسکتا ہے اور اس کا آخری نتیجہ اسلام کی فتح ہے۔75 ۱۳۔حضرت قاضی صاحب نے وسط 1919 ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں حسب ۱۹۱۹ء ذیل مکتوب لکھا :۔”میرے پیارے آقا حضرت خلیفہ المسیح السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مطبوعہ رسالہ حقیقۃ الرؤیا جس میں حضور کی تقاریر ۱۹۱۷ ء کے سالانہ جلسہ کی ہیں گو بہت دیر سے موصول ہوا مگر پڑھنے سے دل شاداب ہو گیا۔لفظ لفظ تازگی بخش تھا۔روح کو نہایت اعلیٰ روحانی غذا ملی۔سینہ نور سے بھر گیا اور ایک خاص طاقت اور سرور نے مزید قربانی کے واسطے تیار کیا۔اس وقت میرے سامنے کوئی مشکل سے مشکل امرایسا نہیں جو مجھے اس محبت کی راہ میں ڈالنے سے سد راہ ہو۔حضور کے معارف نے مجھ پر بجلی کا سا اثر کیا۔حال ہی میں ایک زبر دست نشان حضور کی قبولیت دعا کا ظاہر ہوا ہے برادر۔۔۔نومسلم احمدی کی رہائی کے بظا ہر کوئی آثار نہیں تھے۔اس کے مقابلہ میں بعض اور ہندوستانیوں کی رہائی کی بزبان گورنر جیل زیادہ امید ہو سکتی تھی اور گورنر خصوصیت سے۔۔۔کی رہائی کی کسی صورت سفارش نہیں کر سکتا تھا۔ہوم سیکرٹری صاحب سے بھی بار بار درخواستیں ہوئیں جو ہمیشہ نامنظور ہوئیں مگر بایں ہمہ محض خدا کے فضل سے جس کی جاذب حضور کی دعائیں ہوئیں ایسے سامان معجزہ کے طور پر پیدا ہو گئے کہ نومسلم موصوف تو رہائی پا گیا مگر دوسرے جن کی زیادہ امید ہو سکتی تھی ابھی تک جیل کی چاردیواری کے اندر ہیں۔ایک چھوٹا سا ٹریکٹ فی الحال دس ہزار کی تعداد میں چھپنے کے واسطے بھیج دیا ہے۔اس موسم میں بتوفیقہ تعالیٰ پھر کر تبلیغ کرنے کا ارادہ کر رہا ہوں۔رات کو استخارہ کیا تھا۔اٹھنے سے قبل ناگاہ یہ الفاظ زبان پر ہلکے رنگ میں جاری ہوئے۔وَاسْتَفْتَحُوا وَخَابَ كُلَّ جَبَّارٍ عَنِيْدِ خاکسار حضور کے واسطے دعا کرتا ہے اور نہایت الحاح سے التجا کرتا ہے کہ حضور میرے لئے دعا کریں۔والسلام حضور کا غلام۔خاکسار قاضی عبداللہ عفی عنہ 76