تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 13 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 13

تاریخ احمدیت۔جلد 28 13 سال 1972ء خواہش کا اظہار فرمایا کہ آئندہ ساری دنیا کی تمام احمدی جماعتیں جہاں تک ممکن ہو سکے مکہ معظمہ کی عید کے ساتھ عیدالاضحیہ منائیں تا کہ وحدت اسلامی کے قیام کا ہم عملا ایک مظاہرہ کرسکیں۔10 سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے ۲۷ جنوری ۱۹۷۲ ء کے خطبہ عید الاضحیہ میں یہ حقیقت نمایاں فرمائی کہ فریضہ حج کا ایک بڑا مقصد وحدت اقوامی کے قیام میں ممد و معاون بننا ہے اور حج کا تعلق اگر چه رویت ہلال سے ہے مگر یہ وہ رویت ہلال ہے جو مکہ مکرمہ میں رونما ہو کیونکہ حج تو مکہ کی مقدس بستی میں ہی ہوتا ہے اس لئے یہاں عید الفطر زیر بحث نہیں تھی بلکہ عید الاضحیہ کا ذکر ہے جو حج کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔اس پس منظر میں حضور نے اعلان فرمایا کہ:۔آئندہ سے ساری دنیا میں تمام احمدی جماعتیں انشاء اللہ مکہ مکرمہ کی عید کے دن عید منائیں گی اور ساری دنیا کی احمدی جماعتیں یہ کوشش کریں گی کہ وہ اپنے مسائل حل کرنے کے لئے اسلام کے دن کا آغاز ( یعنی جہاں ہم نے کسی نقطہ پر ہاتھ رکھ کر کہنا ہے کہ یہاں سے دن شروع ہونا ہے ) اُس سورج کے طلوع ہونے سے تعلق رکھے گا جو مکہ مکرمہ کی زیارت کے لئے مشرق سے ابھر رہا ہوگا۔۔۔کسی ملک میں چاند کے لحاظ سے مکہ سے پہلے عید نہیں ہوگی“۔نیز فرمایا:۔” میری ایک اور درخواست دنیا کے تمام ممالک سے یہ ہے کہ وہ اس وقت دن کی ابتداء یعنی اس کرہ ارض کے دن کی ابتداء ایک نقطہ جسے زیرو پوائنٹ کہتے ہیں اس سے کرتے ہیں مگر میرے خیال میں یہ نقطہ مکہ مکرمہ ہونا چاہیے کیونکہ وہ ام القریٰ ہے وہ تمام بستیوں کی ماں ہے پس یہ وہ زیرو پوائنٹ اور مرکزی نقطہ ہے جہاں سے دن شروع ہوگا کیونکہ ہمیں یہ پختہ یقین ہے کہ انشاء اللہ اسلام ساری دنیا پر غالب ہوگا اور پھر پہلے سے بنے ہوئے یہ فارمولے منسوخ کر دیے جائیں گے اور پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیئے جائیں گے اور انشاء اللہ ایک دن وہ وقت بھی آ جائے گا کہ ساری دنیا کا دن مکی دن سے شروع ہو گا اور اسی کے مطابق ہماری گنتیاں ہوں گی اور ہمارے مسائل حل ہوں گے خدا کرے کہ وہ دن جلد طلوع ہو۔اور خدا کرے کہ وحدت اقوامی کے لئے ہماری یہ کوشش بارآور ہو۔میں نے رات کو