تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 14
تاریخ احمدیت۔جلد 28 14 سال 1972ء بڑی دعا کی کہ اے میرے خدا! مجھ سے کوئی غلط فیصلہ نہ ہو جائے اس لئے میں نے یہاں ساری چیزیں کھول کر بیان کر دی ہیں کہ ہم آئندہ سے یہ عید الاضحیہ یعنی قربانیوں کی عید حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس فارمولے کے مطابق منائی تھی اس کے مطابق منائیں گے یعنی مکہ مکرمہ میں جس فارمولے کے مطابق عید الاضحیہ منائی جاتی ہے اس کے مطابق عید منائیں گے“۔اس اعلان پر ہفت روزہ ” الاعتصام لاہور نے اپنی اا راگست ۱۹۷۲ء کی اشاعت میں سخت برہمی کا اظہار کیا اور اسے امت مسلمہ سے علیحدگی کے واشگاف اعلان سے تعبیر کرتے ہوئے لکھا:۔اسلام میں رویت ہلال کا مسئلہ بالکل واضح ہے جو احادیث میں صراحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ ہر علاقے کے لوگ چاند دیکھ کر ہی اپنی عبادات حج و روزہ اور عید کا اہتمام کریں۔یہ زہر یلا مضمون پڑھ کر خالد احمدیت مولانا ابوال العطاء صاحب نے مدیر الاعتصام“ کے نام ۱۵ اگست ۱۹۷۲ء کو بذریعہ خط دریافت کیا ” براہ کرم محض تحقیق کی غرض سے ان احادیث کی نشاندہی فرمائیں جن میں حج اور عید الاضحیہ (نہ کہ عید الفطر ) کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی ہو کہ ہر علاقے کے لوگ چاند دیکھ کر ہی ان کا اہتمام کریں۔مولانا صاحب نے اپنے رسالہ الفرقان اکتوبر ۱۹۷۲ء صفحہ ۴۱ پر اس امر کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا:۔یہ خط پندرہ اگست کو بھجوایا گیا تھا مگر آج تک فاضل مدیر صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ہم اس موضوع پر مفصل لکھنے سے پہلے اس خط کے اس حصہ کو اس لئے شائع کر رہے ہیں کہ اگر کوئی اور عالم دوست اس بارے میں آگاہ فرما سکیں تو ان کی تحقیق سے بھی استفادہ کر لیا جائے۔واضح رہے کہ اس جگہ سوال صرف حج اور عیدالاضحی کے بارے میں ہے۔۱۹۷۱ء کی جنگ پر حقیقت افروز تبصرہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے ۱۸ فروری ۱۹۷۲ء کو خطبہ جمعہ میں ہندوستان سے لڑی جانے والی ۱۹۷۱ ء کی جنگ پر تاریخ اسلام کی روشنی میں نہایت حقیقت افروز تبصرہ کیا اور غزوہ بدر، جنگ یرموک اور