تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 214
تاریخ احمدیت۔جلد 28 214 سال 1972ء میں آپ کو اس خدا کے جو ایک اور صرف ایک ہی خدا ہے نہ جس کا بیٹا نہ جورو۔سپر د کرتا ہوں وہ آپ کا حافظ ہو۔ناصر ہو۔نگہبان ہو۔ہادی ہو۔معلم ہو۔رہبر ہو۔اللهم آمین ثم آمین۔آپ جس کام کے لئے جاتے ہیں وہ بہت بڑا کام ہے بلکہ انسان کا کام ہی نہیں۔خدا کا کام ہے کیونکہ دلوں پر قبضہ سوائے خدا کے اور کسی کا نہیں۔دلوں کی اصلاح اسی کے ہاتھ میں ہے۔پس ہر وقت اس پر بھروسہ رکھیں اور کبھی نہ خیال کریں کہ میں بھی کچھ کر سکتا ہوں۔دل محبت الہی سے پُر ہو اور تکبر اور فخر پاس بھی نہ آئے۔جب کسی دشمن سے مقابلہ ہو اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے آگے گرادیں اور دل سے اس بات کو بالکل نکال دیں کہ آپ جواب دیں گے بلکہ اس وقت یقین کر لیں کہ آپ کو کچھ نہیں آتا۔اپنے سب علم کو بھلا دیں لیکن اس کے ساتھ ہی یقین کر لیں کہ آپ کے ساتھ خدا ہے وہ خود آپ کو سب کچھ سکھائے گا۔دعا کریں اور ایک منٹ کیلئے بھی خیال نہ کریں کہ آپ دشمن سے زیر ہو جائیں گے۔بلکہ تسلی رکھیں کہ فتح آپ کی ہوگی اور پھر ساتھ ہی خدا تعالیٰ کے غنا پر نظر رکھیں۔خوب یاد رکھیں کہ وہ جو اپنے علم پر گھمنڈ کرتا ہے وہ دینِ الہی کی خدمت کرتے وقت ذلیل جوا۔کیا جاتا ہے اور اس کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔لیکن ساتھ ہی وہ جو خدمت دین کے وقت دشمن کے رعب میں آتا ہے خدا تعالیٰ اس کی بھی مدد نہیں کرتا۔نہ تو گھمنڈ ہو نہ فخر، نہ گھبراہٹ ہو نہ خوف۔متواضع اور یقین سے پر دل کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کریں۔پھر کوئی دشمن اللہ تعالیٰ کی نصرت کی وجہ سے آپ پر غالب نہ آ سکے گا۔اگر کسی ایسے سوال کے متعلق بھی آپ کا مخالف آپ سے دریافت کرے گا جو آپ کو نہیں معلوم تو بھی خدا کے فرشتے آپ کی زبان پر حق جاری کریں گے اور الہام کے ذریعہ سے آپ کو علم دیا جائے گا۔یہ یقینی اور سچی بات ہے اس میں ہر گز شک نہ کریں۔آپ جس دشمن کے مقابلہ کے لئے جاتے ہیں وہ وہ دشمن ہے کہ تین سوسال سے بلکہ اس سے بھی زیادہ عرصہ سے اسلام کی لہروں نے اس سے سر ٹکرایا ہے لیکن سوائے اس کے کہ واپس دھکیلی گئیں کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔اس دشمن نے اسلام کے قلعے ایک ایک کر کے فتح کر لئے ہیں۔پس بہت ہوشیاری کی بات ہے لیکن مایوسی کی نہیں۔کیونکہ جس