تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 207 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 207

تاریخ احمدیت۔جلد 28 207 سال 1972ء بلکہ ان کی اولاد کو بھی غیر معمولی طور پر ان نعمتوں سے نوازا گیا۔آپ کی ماشاء اللہ تقریباً ساری اولا دہی اچھے عہدوں پر فائز ہے اور آپ کی تمام بیٹیاں اچھے گھروں میں بیاہی گئی ہیں۔آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ میں نے جو بھی حاصل کیا وہ محض احمدیت کے ساتھ لگاؤ ، خلافت کے ساتھ وابستگی اور عقیدت اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ذاتی تعلق کی بناء پر حاصل کیا ہے اور فی الواقع یہ حرف بحرف درست اور صحیح ہے۔تجدید بیعت کے بعد آپ نے خلیفہ اسیح الثالث کا فوٹو فریم کروا کے اپنے خاص کمرے میں لگوایا اور پانچوں وقت نماز فرض میں اور تہجد میں حضور کی سلامتی ، صحت اور کامیابی کے لئے دعائیں کرتے رہے“۔41 اولاد راجہ غالب احمد صاحب چیئر مین ایجوکیشن بورڈ سرگودھا۔راجہ منصور احمد صاحب کرنل۔راجہ مبشر احمد صاحب لیفٹیننٹ کرنل۔راجہ باسط احمد صاحب میجر راجہ منور احمد صاحب 12 عارفہ بیگم صاحبہ اہلیہ مرزا منظور احمد صاحب۔آصفہ بیگم صاحبہ اہلیہ لیفٹینٹ کمانڈر چوہدری محمد اسلم صاحب۔منصورہ بیگم صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر لیفٹینٹ کرنل ضیاء الدین ملک صاحب۔طاہرہ بیگم صاحبہ مرحومہ اہلیہ سید حمید احمد صاحب دہلوی۔آنسہ بیگم صاحبہ اہلیہ شیخ منیر احمد صاحب 43 حضرت مستری جان محمد صاحب امرتسری آف بھڑ یار ولادت: ۱۸۸۸ء44 تحریری بیعت ۱۸۹۷ء دستی بیعت ۱۹۰۲ء45 وفات : ۲۱ ستمبر ۱۹۷۲ء مولانا محمد صدیق صاحب فاضل امرتسری انچارج مبلغ جزائر فجی اور مکرم محمد لطیف صاحب ریٹائر ڈ اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری ربوہ کے تایا جان تھے۔آپ کو متعدد بار سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں قادیان جانے اور حضور علیہ السلام کی زیارت اور ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔نیز اٹاری سٹیشن پر بھی جماعت بھڑ یار کے ساتھ حضور سے شرف مصافحہ اور ملاقات نصیب ہوئی۔46 میاں عبدالحکیم صاحب زعیم اعلی مجلس انصار اللہ حلقہ گنج پورہ لاہور نے آپ کی وفات پر ایک نوٹ میں لکھا:۔محترم میاں جان محمد صاحب نہایت ذکی اور عبادت گذار بزرگ تھے۔بڑے شوق سے نماز تہجد ادا فرمایا کرتے تھے۔ذکر الہی گویا آپ کی روح کی غذا تھی۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریری بیعت تو ۱۸۹۷ء کے بعد کی تھی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک ہاتھ پر بیعت کا شرف آپ کو ۱۹۰۲ء میں حاصل ہوا۔