تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 208 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 208

تاریخ احمدیت۔جلد 28 208 سال 1972ء مرحوم بتا یا کرتے تھے کہ مجھے مسیح الزمان علیہ السلام کی زندگی میں متعدد بار حضور علیہ السلام کی زیارت کرنے اور ملاقات سے مشرف ہونے کی اللہ تعالیٰ نے سعادت عطا فرمائی تھی۔آپ کی دیگر اولا د تو جلد فوت ہوگئی البتہ ایک فرزند مکرم میاں دین محمد صاحب ایم اے ایل ایل بی عمر پانے والے 66 ہوئے۔47 حضرت چوہدری غلام قادر صاحب آف لنگر و ضلع جالندھر ولادت : ۱۸۸۶ ء 48 بیعت : اپریل ۱۹۰۴ ء 49 وفات : ۲۶ / ۲۷ ستمبر ۱۹۷۲ء50 حضرت چوہدری صاحب کا بیان ہے : ”میں ایک معزز راجپوت خاندان کے ساتھ تعلق رکھتا ہوں۔ہمارے گاؤں اور علاقہ میں اکثریت راجپوتوں کی تھی۔میرے والد ماجد کا نام چوہدری خیر و خاں تھا جو کہ ایک صاحب علم ، صوم وصلوٰۃ کے پابند رئیس آدمی تھے۔میں ابھی چھٹی جماعت ہی میں تھا کہ آپ اپنے محبوب حقیقی سے جاملے۔میرے بڑے بھائی چوہدری محمد امیر خاں میری سر پرستی کرتے تھے۔پلیگ کے ایام میں میرے بہنوئی ڈاکٹر دوست خاں مجھے اپنے پاس امرتسر لے گئے۔وہاں میں نے ۱۹۰۳ء میں فرسٹ ڈویژن میٹرک پاس کیا۔اس وقت میری عمر ۱۹-۲۰ سال کی تھی۔۱۹۰۳ء ہی کا واقعہ ہے کہ بورڈنگ ہاؤس میں جہاں میں رہا کرتا تھا ایک احمدی بورڈ رلٹر کے کریم اللہ نامی سکنہ فیض اللہ چک ضلع گورداسپور نے بیان کیا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آج (مورخہ ۱۵ جنوری ۱۹۰۳ء) جہلم جانے کے لئے امرتسر سے گذریں گے۔پیشتر اس کے حضرت حاجی غلام احمد صاحب سکنہ کر یام قادیان سے واپس آکر مجھے امرتسر بورڈنگ ہاؤس میں تشریف لا کر بتلا گئے تھے کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر لی ہے۔ان کی بیعت کی وجہ سے میرے دل میں بھی اس بات کی زبردست خواہش پیدا ہوئی کہ میں کم از کم ایسے شخص کی زیارت تو کرلوں۔چنانچہ ہم کئی لڑکے اکٹھے ہو کر حضور کی زیارت کے لئے امرتسر اسٹیشن پر پہنچے۔امرتسر کی جماعت نے حضور کے لئے چائے وغیرہ کا بھی انتظام کیا ہوا تھا۔جب گاڑی آکر اسٹیشن پر ٹھہری تو نامعلوم کیا کشش تھی کہ ہم نے بھی درود شریف پڑھتے ہوئے اور کشاں کشاں بڑھتے ہوئے حضور سے سلام علیکم کیا اور مصافحہ کیا۔حضور کے چہرہ مبارک کو دیکھا جو بہت نورانی تھا۔چنانچہ جو طالب علم زیارت کے لئے گئے بعد ازاں ان میں سے کئی ایک کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی۔از انجملہ ایک طالب علم