تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 205
تاریخ احمدیت۔جلد 28 205 سال 1972ء گردن سے پکڑ کر توری کی مانند جیسا کہ وہ بیل سے لٹکتی ہوتی ہے مجھے لٹکائے ہوئے گاڑی کے ساتھ متوازی پرواز کیا ہے اور ایک خانہ کے سامنے میرا چہرہ کر کے پیچھے سے آواز دی ہے ” یہی تو مسیح موعود ہے اور اس بالا خانہ میں حضرت اندر تشریف فرما ہیں۔صبح جب میں بیدار ہوا تو میرے دل میں کامل سکون اور تسلی تھی میں نے اسی وقت بیعت کا عریضہ لکھ دیا جس کا جواب از قلم حضرت مولوی عبد الکریم صاحب چار پانچ یوم کے اندر آ گیا کہ بیعت منظور ہے اور یہ محض خدا وند تعالیٰ کا فضل واحسان ہے کہ اس نے یہ نعمت عطا فرمائی۔37 حضرت راجہ صاحب ایک نہایت بلند پایہ بزرگ تھے۔آپ کے مبارک نمونہ کے باعث کئی ایک معزز لوگوں نے احمدیت قبول کی۔آپ پُر جوش داعی الی اللہ تھے اور اپنے ملنے والوں سے کوئی نہ کوئی پہلو نکال کر کلمہ حق پہنچا دیتے تھے۔38 ۱۹۰۴ء میں قانون گو کی حیثیت سے ملازمت شروع کی لیکن محنت و قابلیت اور دیانت کی بدولت پہلے تحصیلدار اور پھر افسر مال کے عہدہ تک ترقی کی۔سیدنا حضرت مصلح موعود مجلس مشاورت میں اور سلسلہ کے دیگر اہم کاموں میں آپ کو بالعموم ضرور مختلف سب کمیٹیوں کا ممبر نامزد فرماتے تھے اور آپ نے اس سلسلہ میں نہایت قابل قدر خدمات انجام دیں۔۱۹۴۵ ء میں آپ ریٹائر ہوئے۔۴۶ - ۱۹۴۵ء میں حضور نے آپ کو ناظر بیت المال مقررفرمایا۔39 آپ کو تحریک جدید کے پانچیز اری مجاہدین میں شمولیت کا شرف بھی حاصل تھا۔40 آپ کے داماد محترم مرزا منظور احمد صاحب ( ابن حضرت مرزا غلام رسول صاحب آف پشاور ) نے آپ کی وفات پر ایک نوٹ میں لکھا کہ :۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو فراست، بصیرت اور صائب الرائے ہونے کی صفت سے نوازا تھا۔اسی لئے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی آپ کو ہمیشہ ہی مجلس مشاورت کے لئے بطور خاص ممبر نامزدفرماتے۔آپ ریونیو اور مالی امور میں اپنے زمانہ میں اتھارٹی سمجھے جاتے تھے۔حضرت اصلح الموعود نے آپ کو ۴۶ - ۱۹۴۵ء میں ناظر بیت المال مقرر فرمایا۔اس خدمت کے دوران آپ نے حسن کارکردگی کی وجہ سے بارہا حضور سے خوشنودی حاصل کی۔تقسیم ملک کے وقت ۱۹۴۷ء میں حفاظت قادیان کے سلسلہ میں حضور نے جو کمیٹی تشکیل فرمائی تھی اس کے آپ ممبر رہے۔پاکستان میں نئے مرکز احمدیت کی تلاش اور قیام کے لئے حضور مصلح موعود نے جو کمیٹی بنائی تھی اس کے بھی آپ ممبر تھے۔آپ نے