تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 194
تاریخ احمدیت۔جلد 28 194 سال 1972ء درمیانی رات زلزلہ بھی آیا۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جن لوگوں نے میری زبان سے یہ الفاظ سنے ہیں ان کی گواہیاں لکھ لی جائیں۔چنانچہ ماسٹر عبدالرحمن صاحب بی اے سابق مہر سنگھ میرے پاس آئے اور انہوں نے یہ گواہی لکھ لی اور حضور کی خدمت میں جا کر پیش کی۔چنانچہ میری گواہی کو بھی حضرت صاحب نے حقیقۃ الوحی میں لکھا ہے۔۔۔۔۔(۷) تحصیلدار صاحب بٹالہ قادیان میں آئے اور انہوں نے شیخ یعقوب علی صاحب سے آ کر کہا کہ میرالڑ کا سخت بیمار ہے میں مولوی ( نور الدین) صاحب کو لینے کے واسطے آیا ہوں۔چنانچہ شیخ یعقوب علی صاحب پہلے ان کو لے کر حضرت صاحب کے پاس گئے اور عرض کیا کہ حضور یہ بٹالہ کے تحصیلدار صاحب ہیں ان کا لڑکا بہت بیمار ہے یہ مولوی صاحب کو لینے کے واسطے آئے ہیں۔حضور سے اجازت چاہتے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ مولوی صاحب کو کہہ دو کہ چلے جائیں اور آج ہی واپس آ جائیں۔چنانچہ وہ حضرت خلیفہ اول کے پاس شفا خانہ میں گئے تو شیخ یعقوب علی صاحب نے عرض کیا کہ تحصیلدار صاحب کا لڑکا بہت بیمار ہے اور یہ حضور کو لینے کے واسطے آئے ہیں تو حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ لوگ میرے طرز سے ناواقف ہیں۔میرا جانا یا نہ جانا میرے اختیار میں نہیں ہے تو شیخ یعقوب علی صاحب نے فرمایا کہ حضرت صاحب نے فرمایا کہ آپ چلے جائیں اور آج ہی واپس آجائیں۔چنانچہ اسی وقت حضرت خلیفہ اول کھڑے ہو گئے اور پگڑی سر پر لیٹے ہوئے ہی چل پڑے۔بٹالہ میں پہنچتے ہوئے رات پڑ گئی اور مریض کو دیکھ کر واپس روانہ ہوئے تو اس وقت تیز بارش ہو رہی تھی اور تحصیلدار نے بہت اصرار کیا کہ تیز بارش ہو گئی ہے آپ یہاں رہیں۔صبح ہم آپ کو قادیان میں پہنچا دیں گے اور حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ حضرت صاحب کا حکم ہے کہ آج ہی واپس آجائیں اس لئے میں ٹھہر نہیں سکتا۔چنانچہ بارش میں رات کو بٹالہ سے چل پڑے اور پیدل ہی پانی میں چلتے آئے اور آدھی رات کے قریب قادیان پہنچے تو پیدل چلنے کی وجہ سے پاؤں میں کانٹے لگ گئے تھے۔صبح کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جب یہ اطلاع پہنچی کہ مولوی صاحب بارش میں ہی پیدل چلتے آئے ہیں اور پاؤں میں کانٹے لگ گئے ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ میں نے ہی کہا تھا کہ آج واپس آجا ئیں اس لئے مولوی صاحب وہاں رہ نہیں سکے۔(۸) میرے چچا مولوی دوست محمد صاحب میانی میں بہت سخت بیمار ہو گئے تو میرے والد