تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 193 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 193

تاریخ احمدیت۔جلد 28 193 سال 1972ء پھر نہایت صفائی کے ساتھ شیرہ بنایا اور مائی تابی کو پلا یا وہ بہت ہی خوش ہوئیں اور اسی وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس گئیں اور جا کر عرض کیا کہ حضرت جی امیراحمدکا شیرہ بنایا ہوا مجھے پسند ہے حضورا میر احمد کو ہی کہیں کہ مجھے شیرہ بنا دیا کرے۔چنانچہ حضور نے مجھے بلایا۔جب میں حضور کے سامنے آیا تو حضور نے نہایت پیار سے مسکراتے ہوئے خاکسار کو فرمایا۔میاں امیر احمد مائی تابی کو تم ہی شیرہ بنا کر دیا کرو۔چنانچہ روزانہ میں آتا اور مائی تابی کو شیرہ بنا کر دیا کرتا اور شیرہ پی کر وہ بہت خوش ہوتی تھیں اور حضور نے یہ بھی فرمایا تھا کہ جب بادام مصری ختم ہو جائے تو اور لے لیا کرو۔(۳) پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کے ایک خلیفہ حضور کی خدمت میں ملاقات کے لئے آئے۔مسجد مبارک میں وہ حضور کے سامنے بیٹھ گئے اور باتیں شروع ہوئیں۔ان کی طرز گفتگو نہایت ہی مؤدبانہ تھی۔دورانِ گفتگو میں انہوں نے یہ کہا کہ سب کچھ ٹھیک ہے لیکن حضور کا دعوی ہم ماننے کے لئے تیار نہیں تو ان کے یہ الفاظ سن کر حضور جوش میں آگئے اور حضور نے جوش کے رنگ میں فرمایا کہ مباہلہ کر لوتو وہ مباہلہ کا لفظ سن کر بہت ہی گھبرائے اور انہوں نے کہا کہ میں مباہلہ کے لئے تیار نہیں اور انہوں نے گھبراہٹ کی حالت میں مباہلہ کرنے سے بار بارا انکار کیا تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جب آپ کے نزدیک میں مفتری ہوں تو مباہلہ کا اثر تو مجھ پر پڑے گا اور آپ کا مباہلہ سے کیا نقصان ہو سکتا ہے تو پھر انہوں نے بار بار اس بات کا اظہار کیا کہ حضور میں مباہلہ کے لئے تیار نہیں ہوں۔(۴) حضور مسجد مبارک میں بیٹھے ہوئے تھے تو کسی دوست نے عرض کیا کہ حضور گورنمنٹ نے چوہے پکڑوانے کے واسطے پنجرے بنوائے ہیں اور لوگوں کے گھروں میں تقسیم کئے جا رہے ہیں تا کہ چوہے مر جائیں تو طاعون دور ہو جائے۔تو حضور نے فرمایا کہ گورنمنٹ لاکھوں پنجرے بنوائے اور لاکھوں روپے خرچ کرے جب تک ان لوگوں کے دلوں کے چوہے نہ مریں گے طاعون دور نہیں ہوسکتی۔(۵) مسجد مبارک میں بیٹھے ہوئے باتیں ہو رہی تھیں تو حضور نے جوش کی حالت میں فرمایا میرے مخالف اگر ابراہیم علیہ السلام کی طرح مجھے بھی باندھ کر آگ میں ڈال دیں تو جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آگ ٹھنڈی ہو گئی تھی میرے لئے بھی آگ ٹھنڈی ہو جائے گی۔(۶) ایک بار صبح کے وقت حضور نے فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ زلزلہ آیا اور بارش ہوئی۔یہ حضور کی زبان مبارک سے الفاظ میں نے بھی سنے تھے چنانچہ اسی دن بارش ہوئی اور ۲، ۳ مارچ کی